مراکش میں جمعے کی شب ایک صدی کے مہلک ترین زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے زائد ہو گئی ہے اور ملک میں تین دن کے لیے قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔ مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی نے اموات میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ حکام اس آفت سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے اور ان کی فہرست بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے
انھوں نے العربیہ/الحدث کو آج اتوار کے روز جاری کیے گئے بیانات میں کہا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ زلزلے کے مرکز کے آس پاس واقع کئی دیہات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو پر کام کرنے کے حکام کے عزم پر زور دیا۔
وزارت داخلہ نے کل شام ایک سابقہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2,012 تک پہنچ گئی ہے۔زلزلے سے زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد بڑھ کر 2,059 ہوگئی، جن میں 1,404 کی حالت تشویشناک ہے۔ حکومتی ذریعے کے مطابق زخمیوں کو بچانے، انہیں نکالنے، زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے اور انہیں بچانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
مراکش کے جنوب میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں الحوز میں 1,293 اور تارودانت میں 452 میں اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان دونوں خطوں میں کوہ اطلس کے قلب میں بکھرے ہوئے بہت سے دیہات شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر ناقابل رسائی علاقے ہیں اور ان میں موجود عمارتوں کی اکثریت زلزلہ پروف نہیں۔