سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق کا آج 93 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ کافی دنوں سے علیل تھے اور اسپتال میں زیر علاج تھے، لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ آج صبح انھوں نے آخری سانس لی اور ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی سیاسی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ شفیق الرحمن کی طبیعت فروری ماہ کے شروع میں زیادہ خراب ہو گئی تھی جس کے بعد انھیں مراد آباد واقع ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی دیکھ بھال پوتی کر رہی تھی جو کہ خود بھی ایک ڈاکٹر ہے۔ برق کا انتقال سماجوادی پارٹی کے لیڈران و کارکنان کے لیے شدید جھٹکا ہے، کیونکہ پارٹی نے انھیں آئندہ پارلیمانی انتخاب کے لیے بھی امیدوار بنایا تھا اور وہ جیت کے مضبوط دعویدار تھے۔
سماجوادی پارٹی نے شفیق الرحمن برق کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سماجوادی پارٹی نے ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر، کئی بار کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق صاحب کا انتقال، انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کی روح کو سکون حاصل ہو۔ غمزدہ رشتہ داروں کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی طاقت ملے۔ پرخلوص خراج عقیدت۔‘‘