جو ان وڈ بی بی سی نیوز، کیئو
ایک ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ پر جی سیون ممالک کا اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے، یوکرین پر روسی میزائل حملوں میں تیزی آئی ہے جن میں سے زیادہ تر کا نشانہ دارالحکومت کیئو بن رہا ہے۔واضح رہے کہ صرف اتوار کے دن ہی کیئو پر، حکام کے مطابق، چودہ میزائل فائر کیے گئے جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چھ افراد زخمی ہوئے۔ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب روس کو جنگ کے دوران پہلی اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے کیا یوکرین پر ان میزائل حملوں کا مقصد جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے؟اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں پہلے روس کی حالیہ اہم کامیابی اور اس کے جنگ پر اثرات کو سمجھنا ہو گا۔روس اور یوکرین کی جنگ میں یہ بات تقریباً واضح ہو چکی تھی کہ سیوردونیتسک شہر پر روس کا قبضہ ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود اس شہر کا ہاتھ سے نکل جانا یوکرین کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔گذشتہ کئی ہفتوں سے یہ شہر روس کی توجہ کا مرکز تھا اور اس پرانے انڈسٹریل شہر کو توپ خانے اور فضایئہ کی مسلسل بمباری نے کھنڈرات میں بدل دیا تھا۔آخر کار یوکرین کے فوجی کمانڈرز نے کہہ دیا کہ ان کھنڈرات کے مزید دفاع میں زیادہ جانیں گنوانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
ہفتے کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے سیوردونیتسک پر روس کے مکمل قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے ’اخلاقی اور نفسیاتی طور پر ایک مشکل دن‘ قرار دیا۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یوکرین کے لوہانسک علاقے کے سب سے بڑے شہر کی فتح کے بعد روس اپنے اہم سٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں ایک قدم آگے بڑھا ہے۔ ابتدائی جنگ میں پورے یوکرین پر قبضے کی کوشش میں ناکامی کے بعد روس نے ڈنباس کے وسیع مشرقی علاقے پر قبضہ کرنے کے مقصد پر توجہ مرکوز کر رکھی تھی۔یہ علاقہ دو خطوں پر مشتمل ہے جن میں دونیتسک اور لوہانسک شامل ہیں۔ ان میں سے ایک کو بھی حاصل کرنے سے روسی صدر پوتن اس پوزیشن میں آجاتے ہیں کہ وہ اپنی عوام کو بتا سکیں کہ انھوں نے ایک واضح کامیابی حاصل کی ہے جس میں اب تک وہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔لیکن ابھی بھی لوہانسک کے مکمل خطے پر روسی کنٹرول طے شدہ نہیں، اگرچہ اس کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔سیوردونیتسک سے چند میل کے فاصلے پر موجود لسچانسک شہر اب روس کے راستے میں رکاوٹ ہے جو اب تک یوکرین کے پاس ہے۔ سیوردونیتسک سے پسپائی کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ یوکرین کی فوج اس مقام پر موجود ہے۔لسچانسک کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس خطے کے جغرافیے اور جنگ میں اس کے کردار کو سمجھنا ہو گا۔ہہ دونوں شہر سیویرسکی دونیتس دریا کے ساتھ موجود ہیں جو ڈنباس خطے سے گزرتا ہے اور اب تک یہاں روس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔تقریباً ایک ماہ قبل اس دریا کو پار کرنے کی کوشش کے دوران روسی فوج کا ایک پورا بٹالین گروپ اس وقت تباہ ہو گیا تھا جب یوکرین کے توپ خانے نے سینکڑوں فوجیوں اور درجنوں بکتر بند گاڑیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔
سیوردونیتسک اور لسچانسک کے درمیان موجود تمام پل تباہ ہو جانے کے بعد یہاں پر دریا کا خم روسی پیش قدمی کے خلاف ایک قدرتی دفاعی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی اگر لسچانسک شہر کو دیکھیں تو یہ ایک پہاڑی کے اوپر واقع ہے جس کا مطلب ہے کہ لوہانسک میں یوکرین کی آخری پوزیشن کو حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہو گا۔انسٹیٹیوٹ آف وار سٹڈیذ کے تجزیہ کار اس جنگ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ جاری کرتے ہیں۔ 24 جون کے تجزیے میں انھوں نے نوٹ کیا کہ یوکرین کی فوج اب لسچانسک میں بلندی پر پوزیشن سنبھال لے گی جس کے بعد اگر روس ان کا رابطہ منقطع کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پھر ان یوکرینی دستوں کے لیے روسی حملے کو پسپا کرنا کچھ مدت کے لیے نسبتاً آسان ہو گا۔لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ روس بالکل ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روسی فوج یوکرینی دستوں پر جنوب کی جانب سے دباؤ بڑھا رہی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اب وہ شہر کے اتنا قریب ہیں کہ ان کو اندر دکھائی دے رہا ہے۔