ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوآن نے ترکی کے راستے روسی گیس کی دوسرے ملکوں کو فراہمی کے بارے میں پوتین کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے فوری طور پر اپنی حکومت کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
اس منصوبے کے تحت ترکیہ گیس کی ترسیل و فراہمی کے ایک بڑے راستے اور مرکز کا ذریعہ بن کر توانائی کے شعبے میں اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ جبکہ روس کے لیے نورڈ سٹریم کے راستے گیس سپلائی میں یورپ کی طرف سے پیدا کردہ رکاوٹ کا بھی توڑ ممکن ہو جائے گا۔
روس صدر پوتین نے گیس کی پائپ لائن بچھا کر اپنی قدرتی گیس جنوبی یورپ کے ملکوں تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے ترک سرزمین کام آئے گی۔
اس نئے روسی گیس منصوبے کے سامنے آتے ہی یورپی ممالک کو چوکنا کر دیا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کے دفتر نے فوری طور پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ ایک ‘بے تکا ‘ منصوبہ ہے۔ روس اس سے پہلے بھی ترکی کے راستے بحر اسود سے نیچے گیس پائپ لائن بچھا کر گیس خرید داروں کو گیس فراہم کرتا ہے۔
صدر ایردوآن جو قزاقستان میں روسی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد واپس وطن آرہے تھے ، اپنے طیارے میں ہی اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ‘ گیس کی تقسیم کا نیا مرکز امکانی طور پر بلغاریہ کے نزدیک شمال مغربی علاقے تھا ریس میں ہو گا۔
ترک صدر نے کہا اس سے پہلے ہمارے پاس ایک قومی گیس تقسیم مرکز ہے اب ہمارے پاس ایک بین الاقوامی گیس مرکز بھی ہو گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ‘ اس معاملے میں کوئی دیر نہیں کی جائے گی۔ منصوبے پر فوری کام شروع کیا جائے گا۔