این ڈی ٹی وی پر احمد آباد کی ایک عدالت میں انل امبانی کے ریلائنس گروپ کی طرف سے 10،000 کروڑ روپے کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے، کیونکہ NDTV نے رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے پر رپورٹ کی تھی. جسک سماعت 26 اکتوبر کو رکھی گئی ہے، جہاں NDTV یہ دلیل دے گا کہ بدنامی کے یہ الزامات کچھ اور نہیں، بلکہ انل امبانی گروپ کی طرف سے حقائق کو دبانے اور میڈیا کو اپنا کام کرنے سے روکنے کی جبری کوشش ہیں – ایک دفاعی سودے کے بارے میں سوال پوچھنا اور ان کے جوابات تلاش کرنے کا کام، جو بڑے عوامی مفاد کا کام ہے.
یہ کیس NDTV کے ہفتہ وار شو ‘Truth vs Hype’ پر کیا گیا ہے، جو 29 ستمبر کو نشر ہوا تھا. ریلائنس کے اعلی حکام سے بار بار، اور مسلسل تحریری درخواست کی گئی تھی کہ وہ پروگرام میں شامل ہوں یا اس بات پر رائے دیں، جس پر بھارت میں ہی نہیں، فرانس میں بھی بڑے پیمانے پر بحث ہو رہی ہے – کہ کیا انل امبانی کے ریلائنس کو شفاف طور پر اس سودے میں داسو کے پارٹنر کے طور پر منتخب کیا گیا، جس میں بھارت کو 36 لڑاکا طیارے خریدنے ہیں – لیکن انہوں نے اسے نظر انداز کیا.
یاد رکھیں کہ پروگرام کے نشر سے چند دن پہلے، ریلائنس کے کردار پر کسی اور نے نہیں،بلکہ فرانسا اولاند نے سوال کھڑے کئے تھے جو معاہدے کے وقت فرانس کے صدر تھے. NDTV کے پروگرام میں تمام حقائق کو سامنے رکھا گیا تھا -جس میں داسو کیجانب سے تردید کہ ریلائنس کے انتخاب میں اس پر کوئی دباؤ تھا بھی شامل ہے . ایک متوازن بحث میں پنلسٹو نے یہ پرکھا کہ کیا ریلائنس پر بھاری قرض اور دفاعی پیداوار میں اس کے ریکارڈ نہ ہونےکے باوحود اسے ہندوستان میں داسو سے اشتراک کرنا چاہیے ؟
چونکہ ریلائنس کا سودا ہندوستان میں بڑی خبر بن چکا ہے، اس لئے ریلائنس گروپ نوٹس پر نوٹس دیے جا رہا ہے – ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے، جن خبر صرف NDTV پر ہی نہیں، ہر جگہ دی جا رہی ہے، جعلی اور اوچھے الزامات میں گجرات کی ایک عدالت میں ایک نیوز کمپنی پر 10،000 کروڑ روپے کا مقدمہ میڈیا کو اپنا کام کرنے سے روکنے کے لئے دی گئی اسے انتباہ کی طرح دیکھا جا سکتا ہے.
NDTV مکمل طور بدنامی کے الزامات کو خارج کرتا ہے اور آپ کی طرف کی حمایت میں عدالت میں مواد پیش کرے گا. ایک نیوز-تنظیم کے طور پر، ہم ایسی آزادانہ اور منصفانہ صحافت کے لئے مصروف عمل ہیں جو سچ کو سامنے لاتی ہے