راشٹروادی کانگریس میں پس پردہ سیاسی سرگرمیاں؟ خفیہ میٹنگ کے بعد قیاس آرائیوں کا بازار گرم

ممبئی ( ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر کی سیاست میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے اندرونی حالات اور مستقبل کی حکمت عملی کو لے کر ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے۔ حالیہ دنوں میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی ملاقاتوں اور بند کمرے میں ہونے والی میٹنگوں سے سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ خاص طور پر دونوں دھڑوں کے ممکنہ اتحاد اور حکمراں اتحاد کے ساتھ سیاسی قربت کے امکانات موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔

دہلی میں اہم ملاقاتیں، وزارتوں کی تقسیم پر گفتگو اور کابینہ میں ممکنہ ردوبدل کی اطلاعات نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ 22 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 21 اکتوبر کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، راشٹروادی کانگریس کی قومی صدر سنیترا پوار اور رکن پارلیمنٹ پارتھ پوار کی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں ریاست کی سیاسی صورت حال، مالیات کے قلم دان اور وزارتی سطح پر ممکنہ تبدیلیوں پر گفتگو ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مالیات کا قلم دان دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش؟

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ راشٹروادی کانگریس کے بعض سینئر رہنما چاہتے ہیں کہ مالیات کا قلم دان دوبارہ پارٹی کو ملے۔ اس کے علاوہ کابینہ میں بعض وزراء کی ذمہ داریوں میں تبدیلی کے امکانات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔ تاہم ان مطالبات پر مرکزی یا ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
پارتھ پوار کا کردار بھی زیر بحث

سنیترا پوار اور پارتھ پوار کی مسلسل دہلی آمد و رفت کے بعد پارٹی کی آئندہ حکمت عملی اور فیصلہ سازی میں پارتھ پوار کے کردار کو لے کر بھی سیاسی حلقوں میں گفتگو جاری ہے۔ تاہم پارٹی کے اندرونی اختیارات کی تقسیم یا کسی رہنما کو نئی ذمہ داری دیے جانے کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔
کیا کابینہ میں بڑی تبدیلی ہوگی؟
ان ملاقاتوں کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا مہاراشٹر کی کابینہ میں ردوبدل ہوگا اور کیا راشٹروادی کانگریس کو مالیات کا قلم دان دوبارہ ملے گا؟ فی الحال یہ دونوں امکانات قیاس آرائیوں تک محدود ہیں۔ کسی وزیر کو ہٹانے، نئے وزیر کی تقرری یا قلم دان کی تبدیلی سے متعلق کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
سیاسی مبصرین کی توجہ اب آئندہ ہونے والی ملاقاتوں اور پارٹی قیادت کے فیصلوں پر مرکوز ہے۔ آنے والے دنوں میں ہی واضح ہوسکے گا کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں عملی تبدیلیاں ہوتی ہیں یا یہ بات چیت معمول کی سیاسی حکمت عملی تک محدود رہتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading