
گزشتہ فروری میں دوارکا کے سیکٹر-11 میں واقع جس مسجد پر پتھراؤ ہوا تھا، ایک بار پھر اسی مسجد کو شرپسندوں نے نشانہ بنایا اور علاقے کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب یعنی 14 جون کا ہے جب تقریباً ایک بجے مبینہ طور پر ہندوتوا ذہنیت کے شرپسند افراد مسجد پر پتھراؤ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔ حالانکہ اس پتھراؤ میں مسجد کو کسی طرح کا نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
انگریزی نیوز پورٹل ‘کارواں انڈیا ڈاٹ کام’ میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک مقامی شہری کا کہنا ہے کہ "مسجد پر پتھراؤ ہونے پر موذن نے ہم لوگوں کو بلایا اور پھر ہم نے مقامی پولس کو اس واقعہ کی خبر دی۔
طلاع کے مطابق پولس جب جائے وقوع پر پہنچی تو لوگوں نے تحریری شکایت دی۔ تحریری شکایت میں درج ہے کہ
مسجد کے امام نے مقامی لوگوں کو تقریباً 1.15 بجے خبر دی کہ کچھ لوگ مسجد کے اندر پتھر پھینک رہے ہیں۔ جب مقامی افراد پہنچے تو انھوں نے سیمنٹ کے کچھ ٹوٹے ہوئے ٹکڑے مسجد کے فرش پر دیکھے۔ حالانکہ مسجد کو اس پتھراؤ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔