کانگریس لیڈر سندیپ دیکشت پولس حراست میں
نئی دہلی: شہریت قانون کے خلاف احتجاج و مظاہرہ کر رہے کانگریس لیڈر سندیپ دیکشت کو آج پولس نے دارالحکومت کے منڈی ہاؤس کے قریب حراست میں لے لیا۔ منڈی ہاؤس کے قریب جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا و طالبات اور دیگر لوگوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ سندیپ دیکشت نے کہا کہ وہ لال قلعہ جا رہے تھے لیکن پولس نے انہیں وہاں نہیں جانے دیا اور حراست میں لے لیا۔ انهوں نے کہا کہ وہ کل بھی یہاں آئیں گے اور احتجاج کریں گے۔ سندیپ دیکشت نے کہا کہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون واپس لینا چاہیے اور گھبراہٹ میں لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ منڈی ہاؤس کے قریب دفعہ 144 نافذ ہے اس کے باوجود طالب علم وہاں آ رہے ہیں جنہیں پولس حراست میں لے رہی ہے۔
Delhi: Congress leader Sandeep Dikshit detained by police at Mandi House. He says, "I was not allowed to go to Red Fort (for protest), so, I came to Mandi House". #CitizenshipAct pic.twitter.com/QIiiMRXfNg
— ANI (@ANI) December 19, 2019
آواز جتنی دباؤ گے، اتنی تیز اٹھے گی… پرینکا گاندھی
دہلی میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران انٹرنیٹ، کالنگ اور ایس ایم ایس سروس بند کرنے پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، انہوں نے ٹوئٹ کر کہا، ’’میٹرو اسٹیشن بند ہیں، انٹرنیٹ بند ہے، ہر جگہ دفعہ 144 نافظ ہے، کسی بھی جگہ آواز اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔ جنہوں نے آج ٹیكس دہندگان کا پیسہ خرچ کر کے کروڑوں کے اشتہارات لوگوں کو سمجھانے کے لئے نکالیں ہیں، وہی لوگ آج عوام کی آواز سے اتنا بوکھلا گئے ہیں کہ سب کی آوازیں بند کر رہے ہیں‘‘۔
मगर इतना जान लीजिए कि जितना आवाज दबाएँगे उतनी तेज आवाज उठेगी।
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) December 19, 2019
دہلی میں زبردست مظاہرہ، کئی علاقوں میں انٹرنیٹ، کالنگ اور SMS سروس بند
دہلی میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرہ تیز ہوگیا ہے اسی کے چلتے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ، کالنگ اور ایس ایم ایس سروس پر روک لگا دی گئی ہے، ایئرٹیل کی طرف سے بیان آیا ہے کہ حکومت کی طرف سے انہیں حکم دیا گیا ہے کہ دہلی کے کچھ علاقوں میں وائس، ایس ایم ایس، انٹرنیٹ کی سہولت کو بند کر جائے ہے۔
لال قلعہ کے آس پاس حکم امتناعی، متعدد میٹرو اسٹیشن بند
نئی دہلی: شہریت قانون کے خلاف دہلی کے کئی علاقوں میں احتجاج و مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے اور لوگوں کو جنتر منتر اور لال قلعہ جانے سے روکنے کے لئے بہت سے میٹرو اسٹیشن بند کیے گئے ہیں۔ جامعہ نگر علاقے کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میٹرو اسٹیشن کے علاوہ اوکھلا وہار، جسولہ وہار میٹرو اسٹیشن کو بند کیا گیا ہے، منیركا میٹرو اسٹیشن بھی بند ہے۔
احتجاج کو دیکھتے ہوئے لال قلعہ کے ارد گرد حکم امتناعی نافذ ہے کیونکہ مظاہرین نے لال قلعہ سے شہید پارک تک مارچ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ لوگوں کے احتجاج و مظاہرہ کے خدشہ کو دیکھتے ہوئے لال قلعہ، جامع مسجد، چاندنی چوک، یونیورسٹی، پٹیل چوک، لوک کلیان مارگ، ادیوگ بھون، آئی ٹی او، پرگتی میدان، سینٹرل سکریٹریٹ اور خان مارکیٹ میٹرو اسٹیشن بند کر دیئے گئے ہیں۔ سکریٹریٹ کے سبھی انٹری اور ایگزٹ گیٹ بند کیے گئے ہیں لیکن یہاں سے ٹرینوں کو تبدیل کرنے کی سہولت ہے۔









دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشن بند، جامع مسجد پر لوگ جمع
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرہ ہو رہے ہیں لیکن اس کا مرکز دہلی نظر آ رہا ہے کیونکہ یہاں پر بایاں محاذ کے تمام بڑے لیڈر مظاہرہ کی بڑی تیاری میں نظر آ رہے ہیں۔ ادھر ساجھی وراثت کے تحت جامع مسجد دہلی سے شہیدی پارک کو جانے والی ریلی کے لئے بڑی تعداد میں لوگ جامع مسجد پر جمع ہو رہے ہیں۔ ادھر دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشن بند کر دیئے ہیں جن میں جامع مسجد، لال قلع، آئی ٹی او، پرگتی میدان وغیرہ شامل ہیں ۔ بایاں محاذ کا مظاہرہ 12 بجے منڈی ہاؤس سے شروع ہوگا۔ ادھر یوگیندر یادو کو پولس نے حراست میں لیا۔
#WATCH Large number of protesters in Delhi's Red Fort area where Section 144 has been imposed. #CitizenshipAct pic.twitter.com/tH5j4dJjTZ
— ANI (@ANI) December 19, 2019
Delhi: Large number of protesters in Red Fort area where Section 144 has been imposed. #CitizenshipAct pic.twitter.com/ZCIR2zsBZ4
— ANI (@ANI) December 19, 2019
ادھر خبر ہے کہ لال قلع میں جو طلباء مظاہرہ میں حصہ لینے کے لئے گئے ہیں ان میں سے بھی کئی کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پر دفعہ 144 لاگو ہے اس لئے یہاں پر چار سے زیادہ لوگ جمع نہیں ہو سکتے
تازہ خبروں کے مطابق مظاہر میں شرکت کے لئے جو بھی لال قلع پہنچ رہا ہے اس کو پولس پکڑ کر بس میں بٹھا رہی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
