دانشوروں نے ماب لنچنگ کے خلاف جنتر منتر سے وزارت داخلہ تک مارچ نکالا

نئی دہلی، 15 اکتوبر (یواین آئی) ملک کے معروف دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے ہجوم کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے (ماب لنچنگ) کی مخالفت میں آج دارالحکومت کے جنتر منتر سے وزارت داخلہ تک مارچ نکالا۔


بوکر انعام یافتہ مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے، معروف وکیل پرشانت بھوشن، رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے اچانک لاپتہ ہوئے طالب علم نجیب احمد کی ماں فاطمہ نفیس،صحافی گوری لنکیش کی بہن کویتا لنکیش، جھارکھنڈ میں ماب لنچنگ میں مارے گئے تبریز انصاری کی بیوی شائستہ انصاری سمیت کئی دانشور، سماجی کارکن اور متاثرین کے خاندان کے رکن اس مارچ میں شامل ہوئے۔


یہ لوگ یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ تنظیم کے زیراہتمام جنتر منتر پر جمع ہوئے تھے جہاں سے وزارت داخلہ تک مارچ نکالا گیا۔ جے این یو سے تین سال پہلے اچانک لاپتہ ہوئے طالب علم نجیب کی ماں نے اپنے بیٹے کی گمشدگی کے سلسلے میں وزارت داخلہ کو ایک میمورنڈم بھی سونپا۔انہوں نے میمورنڈم میں وزارت داخلہ سے معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجیب کی گمشدگی کی جانچ کر رہی مرکزی تفتیشی بیورو نے ابتدائی جانچ کے بغیر ہی 2018 میں اپنی کلوزر رپورٹ دائر کر دی۔ یہاں تک کہ ملزمین کے کال ڈٹیل تک نہیں نکالے گئے اور ایسے میں تین سال سے لاپتہ ایک شخص کے بارے میں اس طرح کی جانچ قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نجیب زندہ ہے اور معاملے کو دوبارہ کھول کر اس کی تلاش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ملک کی جانچ ایجنسیوں کو اس کا پتہ نہیں چلتا تو بین الاقوامی ایجنسیوں سے اس معاملے کی جانچ میں مدد لی جائے۔
جے این یو میں ایم ایس سی بایو ٹیکنالوجی فرسٹ ایئر کا طالب علم نجیب احمد 15 اکتوبر 2016 کو یونیورسٹی کیمپس میں طالب علموں کے ساتھ ہوئی جھڑپ کے بعد سے لاپتہ ہے۔ سی بی آئی نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے اپنی کلوزر رپورٹ دائر کرکے کہا تھا کہ تمام تحقیقات کے باوجود کسی طرح کی گڑبڑی کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں