خلیج میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے بعد فضائی آمد و رفت میں تعطل کا سامنا کرنے والی خلیجی ریاستوں نے پیر کے روز پروازوں کی مرحلہ وار بحالی کا آغاز کر دیا ہے۔بحرین نے اعلان کیا ہے کہ اُس نے فضائی حدود کو مکمل طور پر سول ایوی ایشن کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کے بعد کیا گیا، خاص طور پر ایران کی جانب سے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد فضائی حدود احتیاطاً بند کر دی گئی تھی۔
ادھر دبئی کے ہوائی اڈوں پر بھی فضائی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔ دبئی ایئرپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ بندش کے باعث کچھ پروازوں میں تاخیر کا امکان ہے، کیونکہ فضائی ٹریفک معمول سے زیادہ ہے۔کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں بحال ہو چکی ہیں۔ ادارے نے ایک سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ فضائی حدود کے اطراف سکیورٹی کی صورتحال مستحکم ہونے کے بعد کیا گیا۔
ادھر متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن "الاتحاد” نے بتایا ہے کہ آج اور کل کی پروازوں کے روٹ تبدیل کیے جا رہے ہیں، جب کہ آئندہ دنوں میں بعض پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کا بھی امکان ہے۔
ایئرلائن نے پیر کی شام جاری بیان میں کہا کہ وہ خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ صرف اُن فضائی راستوں پر پروازیں چلاتی ہے جن کی باقاعدہ منظوری حاصل ہو اور کوئی بھی پرواز صرف اسی صورت میں روانہ کی جائے گی جب سکیورٹی یقینی ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسافروں اور عملے کی سلامتی ایئرلائن کی اولین ترجیح ہے۔یاد رہے کہ ایران نے حالیہ دنوں امریکہ کے حملوں کے ردعمل میں قطر کی العديد اور عراق کی عین الاسد فوجی چھاؤنیوں پر میزائل داغے تھے، جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔