حکومت کے چمچے ! از : شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

کیا یہ گونگے، بہرے اور نابینا ہیں؟

یہ سوال ان سے ہے جو سارے ملک کے احتجاجات اور مظاہروں اور شہداء کی بڑھتی تعداد دیکھ کر اور مودی شاہ حکومت کے بار بار کے جھوٹ کو سن کر بھی یہ کہے جارہے ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔ حضرت معین الدین چشتی اجمیری درگاہ کے دیوان زین العابدین علی خان نے سی اے اے کا باقاعدہ خیر مقدم کیا ہے! ان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ قانون ہندوستانی مسلمانوں کےلیے خطرہ نہیں ہے۔ یہ وہی دیوان صاحب ہیں جنہوں نے جموں کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ ختم کیے جانے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا ’شکریہ‘ ادا کیا تھا۔ ایک فیروز احمد بخت ہیں جو خود کو مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کا ’پوتا‘ قرار دیتے ہیں، ان دنوں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر ہیں، ان کا ایک بیان یونیورسٹی کے لیٹر پیڈ پر اس عنوان سے جاری ہوا ہے ’’سی اے اے اور این آر سی مسلمانوں کے خلاف نہیں‘‘۔ جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری اور شیعہ عالم دین مولانا کلب جوادبھی سی اے اے اور این آر سی کی ’حمایت‘ کرنے والوں میں شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سے کون دریافت کررہا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی مسلمانوں کے نقصاندہ ہیں یا نہیں؟ یہ افراد کبھی جب قوم کو ضرورت تھی سامنے نہیں آئے، آج یہ کیوں مشورے پر مشورے دے رہے ہیں!! کیا کسی قوم کے ’دانشور‘ ایسے ہی ہوتے ہیں؟ کیا کسی درگاہ کا ’دیوان‘ اسی طرح حکومت وقت کے سامنے بچھتا ہے؟ کیا کسی یونیورسٹی کا چانسلر اسی طرح سے اپنی چانسلری بچانے کےلیے لیپا پوتی کرتا ہے؟

شاید اس سوال کا کچھ لوگ ’ہاں‘ میں جواب دیں پر سچ یہ ہے کہ وہ جنہیں ملک، قوم اور انسانیت کی فکر ہوتی ہے وہ حکومت کی ہاں میں ہاں ملاکر کبھی بھی سرکاری تشدد، گولی باری او رجامعات کے اندر دہشت گردی کو ’جائز‘ قرار نہیں دیتے۔ یہ تو سرکاری تشدد اور دہشت گردی کو جائز قراردینا، اسے ’جواز‘ فراہم کرنا ہوا۔ یہ فہرست علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر کے ناموں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔

جہاں اول الذکر نے پولس کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہونے کی اجازت دے کر طالب علموں کو ’دہشت‘ میں مبتلا کرایا، وہیں موخرالذکر کو آج تک پولس کمشنر سے یہ دریافت کرنے کی ہمت نہیں پڑی کہ کیسے تم نے جامعہ کے اندر پولس والوں کو داخل کیا! ہاں محترمہ یہ کہتی پھر رہی ہیں کہ پولس نے غلط کیا پر آج تک پولس پر ایف آئی آر تک درج نہیں کرائی ۔

پر یہ کیا کریں، یہ دونوں ہی ’بھگواٹولے‘ کے ’چہیتے‘ ہیں ، اسی لیے وائس چانسلر بنے ہیں۔ شہریت قانون اور این آر سی کی طرز پر ان دونوں کے خلاف بھی تحریک چلنی ضروری ہے۔ یہ وائس چانسلری کے قابل نہیں ہیں کیو ں کہ یہ طالب علموں کو ’محفوظ ‘ کرنے کی بجائے انہیں ’ظالموں‘ کے حوالے کردینے میں ہی اپنا بھلا سمجھتے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading