
آئی ایم اے کے سربراہ محمد منصور خان
بنگلور: حلال سرمایہ کاری کے لئے مشہور بنگلور کی کمپنی آئی ایم اے کے سربراہ محمد منصور خان نے اپنا ایک آڈیو وائرل کیا ہے جس میں وہ دعوی کررہے ہیں کہ وہ انکا آخری پیغام ہے اور وہ اس دنیا کو حکومت و انتظامیہ اور مقامی ایم ایل اے روشن بیگ کی بے جا فرمائشوں کو پورا نہ کرپانے کی وجہ سے خیرباد کہہ رہے ہیں اور اللہ کے یہاں جوابدہی کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس آڈیو کے وائرل ہوتے ہی سیکڑوں سرمایہ کاروں نے آئی ایم اے کے دفاتر ،دکان،جیولری شاپ پر پہنچ کر اپنا احتجاج شروع کردیا ہے۔
Considering the seriousness of the #IMAJewels fraud, the inquiry has been handed over to a special investigation team and instructions regarding this have been given to the DGP.
— CM of Karnataka (@CMofKarnataka) June 11, 2019
Karnataka: Investors of IMA Jewels, protest outside its office in Bengaluru after they allegedly received a message from founder-owner Mohammed Mansoor Khan, saying he is "tired of bribing corrupt politicians & bureaucrats” pic.twitter.com/opG6Av8Ois
— ANI (@ANI) June 11, 2019
سرمایہ کاری سے وابستہ بنگلور کے سید عمیس احمد کہتے ہیں ’’ میں دعا اور امید کرتا ہوں کہ منصور خان خودکشی نہ کریںلیکن جو المیہ ہے وہ یہ کہ ہندوستان کے بالخصوص شہر بنگلور کے مسلمان مالی و اقتصادی بحران کا شکار ہوگئے ہیں ابھی تک یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی ہے کہ آیا وہ صاحب اس دنیا سے کوچ کرگئے ہیں یا نہیں مگر اتنا ضرورطے ہوگیاہے کہ اس پونزی اسکیم کے سرمایہ کار کنگال ہوگئے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھااس بڑے نقصان سے کئی باتیں ہم پر آشکارہ ہوتی ہیں جو سبق آموز ہیں‘‘۔عمیس کہتے ہیں ’’ امت میں کوئی فرد یا ادارہ نہیں جو ہماری مالی و اقتصادی امور میں رہنمائی کرسکے (فرد سے مراد ایسا فرد نہیں جس پر امت جمع ہوسکے) اور اگر ہے بھی تو ہم مسلمان ایسے نہیں کہ ان کی باتیں یا تجاویز قبول کرسکیں، بہت سارے لوگ اب کہہ رہے ہیں کہ وہ علماء کے کہنے پر انویسٹ کررہے تھے ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں نے علماء کے اطمینان ظاہر کرنے پر انویسٹ کیا ہو مگر سچ بات تو یہی ہےکہ ہماری حرص و لالچ نے آمادہ کیا تھا انویسٹ کرنے پر، ذرا ہمارے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھنے کی ضرورت ہے ہمارے ایسے کتنے امور ہیں جس میں ہم علماء کی رہنمائی حاصل کرتے ہیں ورنہ ان علماء کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو اس معاملے میں کھل کر جم کر مخالفت کررہے تھےایسے معاملات میں جہاں علماء کی شرعی اعتبار سے ضرورت پڑتی ہے
ویسے ہی دنیاوی اعتبار سے ماہرین و دانشوران کی بھی ضرورت پڑتی ہے مگر افسوس کہ امت کا وہ طبقہ بھی اس معاملے میں کھویا کھویا نظر آیا بہت سارے عصری تعلیم یافتہ لوگوں کی فہم و بصیرت بھی حرص و لالچ کے آگے جواب دے چکی تھی الا ماشاءاللہ”اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت” آئندہ کیلئے امت کے علماء، مالی و اقتصادی ماہرین، قوم کے ہمدرد سیاستدان و دانشوران سر جوڑ کر بیٹھیں اور امت کو اس طرح اجتماعی طور پر ٹھگ لئے جانے سے بچانے کی تدبیریں کریں یا کوئی بورڈ یا ادارہ قائم کریں جس سے امت کو رہنمائی حاصل ہو‘‘۔
بشکریہ: معیشت