جلگاوں( نامہ نگار) جلگاﺅں میں 1970کی دہائی میں پیش آئے بدترین فساد کی متاثرہ خاتون حجن ہاجرہ بی عبدالصمد کھاٹک گذشتہ شام انتقال کر گئیں۔انکی عمر 90سال بتائی گئی ہے۔مرحومہ کا جلوس جنازہ شہر کے مسلم کالونی سے اٹھایا گیا۔تدفین قدیم عیدگاہ قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں عمل آئی۔ یاد رہے کہ 7 مئی 1970 کے دن قدیم جلگاو¿ں میں دو افراد کے معمولی تنازعہ کے باعث فساد برپا ہوا تھا۔پتھراو بازی ،آتش زدگی اور قتل و غارت تک یہ سلسلہ چلا گیا۔دو روز تک شہر میں فوج تعینات تھی۔ اس ہولناک فساد میں ۔42 افراد شہید ہو ئے تھے انہیں میں مرحومہ حجن ہاجرہ بی کے چار بچے محمد ساجد ،محمد واجد یہ دونوں لڑکے اور زاہدہ اور سعیدہ یہ دونوں لڑکیاں کے ساتھ کے ہاجرہ بی کی معمر والدہ کو فسادیوں نے زندہ نذر آتش کردیا۔ ساتھ ہی فسادیوں نے کئی دوکانوں کو ندز آتش کردیا تھا جس کی وجہ سے کروڑ روپئے کی املاک تباہ و برباد ہوگئی تھی۔اس وقت کی وزیر اعظم آہجانی اندرا گاندھی نے جلگاو¿ں پہنچ کر فساد کا جائزہ لیا اور متاثرین کی باز آباد کار کیلئے عارضی ضلع کلکٹر پردیپ کو ہدایت جاری کی تھی۔تبھی فساد متاثرین کیلئے کالونی تعمیر کی گئی جسے آج مسلم کالونی یا دنگل گرست کالونی کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس ضمن میں مزید گفتگو مرحومہ کے چچازاد پوتے اعجاز کھاٹک نے کرتے ہوئے بتایا کہ ” 1960 میں ہاجرہ بی کے شوہر عبدالصمد کا انتقال ہو چکا تھا۔تبھی سے وہ اپنی اور چار بچوں کے ساتھ جلگاو¿ں کے جوشی پیٹھ میں مقیم تھی۔اس وقت انہیں ایم ایل سی لطیفہ قاضی نے انہیں مدد کی ” بیوہ اور ضعیفی کے عالم ہاجرہ بی کچھ دنوں تک مسلم کالونی میں تنہا رہا کرتی تھی بعد از انہوں نے اپنے بھنجے کو اپنے پاس بلایا تھا ” یہ بھی یاد ہو کہ اس بدترین فساد کے بعد معروف شاعر ندا فاضلی نے اپنی ایک نظم ہاجرہ بی کی ندز کردی تھی۔جو ان کے شعری مجموعے” لفظوں کا پل ” میں ” پہنچان ” اس عنوان سے شامل ہے۔جبکہ کرشن چند کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ کسی معصوم بچے کی طرح رویا کرتے تھے۔بانی مرحوم عبدالحمید انصاری نے اس وقت جلگاو¿ں پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا تھا اور مسلمانوں پر ہوئے ظلم و ستم کو منظر عام پر بھی لایا تھا۔