ٹوکیو:11/اکتوبر ۔جاپان کی صحت کی حکام نے ملک بھر میں انفلوئنزا کو وبا قرار دے دیا ہےکیونکہ اس سال کیسز غیر معمولی طور پر بہت جلد بڑھنے لگے ہیں۔ ماہرین طبیہ خبردار کر رہے ہیں کہ وائرس ممکنہ طور پر پہلے سے تیز رفتاری سےارتقا پا رہا ہے اور زیادہ آسانی سے پھیل رہا ہے۔یہ وبا پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ ہفتے قبل نمودار ہوئی ہے، جس کے
نتیجے میں ہسپتال بھر گئے اور ملک بھر کے اسکول بند کر دیے گئے۔ہوکائیڈو کی ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کی پروفیسر یوکو تسوکاموتو نے "ساوتھچائنا مارننگ پوسٹ” کو بتایا، “اس سال فلو کا موسم واقعی بہت جلد شروع ہوگیا ہے، لیکن بدلتے عالمی ماحول میں یہ ایک عام صورتحال بن سکتی ہے۔”3 اکتوبر کو جاپان کے وزارت صحت نے باضابطہ طور پر وبا کا اعلان کیا، جبایک ہفتے میں 4,000 سے زیادہ افراد کو انفلوئنزا کے علاج کے لیے رجسٹرکیا گیا، جو پچھلے دورانیے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا۔
وزارت نے رپورٹ کیا کہ 22 ستمبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں 4,030 کیسزمخصوص طبی اداروں میں رپورٹ ہوئے، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 957 زیادہہیں، اور یہ اوسطاً ہر ادارے پر 1.04 مریضوں کی وبائی حد سے تجاوز کر
گیا۔
ابتدائی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس زیادہ مؤثر طریقے سے پھیل رہا ہےاور ممکنہ طور پر معیاری علاج کے لیے مزاحمت پیدا کر رہا ہے۔تسوکاموتو نے کہا، “ہم یہ مزاحمت جاپان میں دیکھ رہے ہیں، لیکن دنیا کےدیگر حصوں میں بھی اس کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔”صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیزی کے پیچھے ایک وجہ کووڈ کے بعد سیاحت کی دوبارہ رونق ہے، جس نے لوگوں کی نقل و حرکت اور وائرس کی سرحدوں کےپار منتقلی کو تیز کر دیا ہے۔