بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد کی ضمانت سے متعلق دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں ایک اہم سماعت ہوئی جس میں عدالت نے دہلی پولس کو زبردست پھٹکار لگائی۔ منگل کے روز ہوئی اس سماعت میں دہلی پولس کی جانب سے پیش وکیلوں کے دلائل پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’آپ تو اس طرح برتاؤ کر رہے ہیں جیسے جامع مسجد پاکستان میں ہو۔‘‘ دراصل دہلی پولس کے وکیل نے مذہبی مقام کے باہر مظاہرہ کو لے کر سوال اٹھایا تھا جس پر تیس ہزاری کورٹ نے دہلی پولس کو ڈانٹ لگائی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’لوگ کہیں بھی پرامن مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ جامع مسجد پاکستان میں نہیں ہے۔ ویسے پاکستان میں بھی پرامن مظاہرے ہوتے ہیں۔‘‘
Daryaganj violence case: Court slams Delhi Police, says, people can carry out peaceful protests anywhere. Jama Masjid is not in Pakistan where we are not allowed to protest. Peaceful protests take place in Pakistan as well.
— ANI (@ANI) January 14, 2020
دراصل یہ پورا معاملہ دریا گنج تشدد سے جڑا ہوا ہے جس کے بعد بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ معاملے کی سماعت کے دوران دہلی پولس کی طرف سے پیش سرکاری وکیل نے چندرشیکھر آزاد پر قابل اعتراض بیان دینے کا بھی الزام عائد کیا۔ اس الزام پر عدالت نے دہلی پولس سے سوال کیا کہ کس طرح کے بیانات دیئے گئے اور آپ نے اب تک کیا کارروائی کی؟ سوال کے جواب میں سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا کہ ’’میں آپ کو وہ قانون دکھانا چاہتا ہوں جو مذہبی اداروں کے باہر مظاہرہ پر روک کی بات کرتا ہے۔‘‘ اس پر تیس ہزاری کورٹ کے جج نے دہلی پولس سے کہا کہ ’’کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہماری دہلی پولس اتنی پسماندہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے؟ چھوٹے معاملوں میں دہلی پولس نے ثبوت درج کیے ہیں لیکن اس واقعہ میں ایسا کیوں نہیں؟‘‘
Daryaganj violence case: A Delhi Court says, Bhim Army Chief Chandrashekhar Azad is a budding politician. What is wrong with protests. I have seen many people, and many cases where protests happened even outside the Parliament
— ANI (@ANI) January 14, 2020
اس سماعت کے دوران چندر شیکھر کی طرف سے پیش وکیل محمود پراچہ نے دہلی پولس کی جانب سے پیش کردہ دلائل کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ چندرشیکھر نے ایسا کوئی قابل اعتراض بیان نہیں دیا جس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ محمود پراچہ نے کہا کہ ’’وہ (چندرشیکھر) صرف شہریت قانون اور این آر سی کو لے کر اپنا احتجاج درج کرا رہے تھے۔‘‘ دونوں طرف کی دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت آئندہ بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
Daryaganj violence case: Delhi's Tis Hazari Court adjourns hearing in Bhim Army Chief, Chandrasekhar's bail plea till tomorrow, so that the state can produce all FIRs registered against him in Saharanpur.
— ANI (@ANI) January 14, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو