تھانے کی طالبات کی انٹرنیشنل کراٹے چیمپئن شپ میں شاندار کامیابی
رزین وُورا کو دو گولڈ میڈلز، زینب شیخ کو سلور اور براؤنز میڈلز
تھانے (آفتاب شیخ)
شوٹوکن ریو کراٹے ڈوشِسیکن ایسوسی ایشن انڈیا کے زیرِ اہتمام "2nd International Karate-Do Championship 2025" کا انعقاد مولانا ابوالکلام آزاد انڈور اسٹیڈیم، ممبرا-کوسہ میں کیا گیا۔ یہ ایونٹ شیہان فیروز نور خان پٹھان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ممبئی، تھانے، اور دیگر شہروں کے باصلاحیت طلبہ نے حصہ لیا۔ مقابلے کا مقصد نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ، کراٹے کی اہمیت اجاگر کرنے اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
رابوڑی، تھانے کی ٹریڈیشنل کراٹے اکیڈمی سے وابستہ طلبہ نے بھی اس مقابلے میں شرکت کی اور اپنی مہارت اور محنت سے شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ اکیڈمی کے طالب علم رزین راحش وُورا نے کومیتے اور کاتا دونوں مقابلوں میں گولڈ میڈلز حاصل کیے۔ ان کی شاندار کارکردگی نے انہیں ایونٹ کا ایک نمایاں کھلاڑی بنا دیا۔ رزین کی جیت نے نہ صرف ان کی انفرادی صلاحیتوں کو ظاہر کیا بلکہ یہ اکیڈمی کے معیار اور کوچنگ کی بہترین مثال بھی بنی۔
اسی اکیڈمی کی ایک اور ہونہار طالبہ، زینب شکیل شیخ (عمر 13 سال)، نے بھی غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ زینب نے کاتا میں سلور میڈل اور کومیتے میں براؤنز میڈل حاصل کیا۔ ان کی کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ وہ بھی کراٹے کے میدان میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہیں۔
ٹریڈیشنل کراٹے اکیڈمی کے سرپرست عابد شیخ اور روبینہ شیخ نے ان کامیابیوں پر نہایت خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں طلبہ کی محنت، کوچنگ کے معیار، اور والدین کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے دونوں طالب علموں، ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اکیڈمی مستقبل میں بھی ایسے پلیئرز تیار کرتی رہے گی جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔
رابوڑی کے مکینوں نے ان طالبات کی کامیابی کو علاقے کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی محنت اور لگن نے علاقے کا نام روشن کیا ہے اور دیگر نوجوانوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی ہے۔
یہ کامیابیاں اس بات کی علامت ہیں کہ اگر طلبہ کو مناسب مواقع اور تربیت فراہم کی جائے تو وہ عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ علاقے کے عوام کا ماننا ہے کہ ایسے کھیلوں کے مزید مقابلوں کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں۔
ان کامیابیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ تھانے اور ممبرا جیسے علاقوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان طلبہ کو صحیح پلیٹ فارم اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں اور ملکی و عالمی سطح پر نام روشن کر سکیں۔
