تھانے میں مہایوتی اور مودی سرکار کے خلاف مہاوکاس اگھاڑی کا احتجاج
چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کو دودھ کو دودھ سے نہلایا گیا
پولیس کمشنر سے ملاقات کر آپٹے کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا
تھانے (آفتاب شیخ)
مالون میں آٹھ ماہ قبل نصب کیا گیا چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ منہدم ہوگیا ہے، جس سے شیواجی کے مداح شدید ناراض ہیں۔ اس واقعے کے رد عمل میں، مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران و کارکنوں نے اج تھانے ماسوندا تالاب پر واقع شیواجی کے مجسمے کو دودھ سے مسح کیا۔
اس وقت مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران نے الزام لگایا کہ ریاستی اور مرکزی حکومت نے ووٹوں کے لیے مہاراشٹر کی شناخت کے ساتھ کھیلواڑ کیاہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تجربہ کار مجسمہ سازوں کو نظرانداز کرکے کم تجربہ کار فنکار کو یہ اہم کام کیوں دیا گیا۔
یہ 35 فٹ اونچا مجسمہ مالون کے راجکوٹ قلعہ میں نصب کیا گیا تھا، جس کا افتتاح وزیراعظم نریندر مودی نے 4 دسمبر 2023 کو کیا تھا۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے بنایا گیا یہ مجسمہ صرف 8 ماہ میں منہدم ہو گیا۔
اس واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، کانگریس، این سی پی شرد چندر پوار، شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے کارکنوں نے تھانے کی ماسندا تالاب پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں متعدد سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں سابق کابینی وزیر ڈاکٹر جتندر اوہاڈ، سابق رکن پارلمینٹ راجن ویچارے، ایڈوکیٹ وکرانت چوان، سہاس دیسائی، کیدار دیگھے، پرکاش پاٹل، سوجاتائی گھاگ، سمیتا ویتی اور راہل پنگلے، ایڈوکیٹ جاوید شیخ، مقصود خان، وسیم سید، نورشید شیخ، منظور کھتری شامل تھے۔
مظاہرین نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ کارکنان نے "مہاراج ہمیں معاف کر دو" کا پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا۔ تقریب کے اختتام پر، شرکاء نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کو دودھ چڑھایا اور مالا پہنائی۔
اس موقع پر این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر جتیندر اواد نے مودی حکومت اور مہا وکاس اگھاڑی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کوکن میں ناریل بھی طوفانی ہواؤں کی وجہ سے نہیں گرتے۔ لیکن چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ، جسے آپٹے نامی شخص نے بنایا تھا، طوفان کی وجہ سے منہدم ہوگیا، اور منتشر ہو گیا۔ مہاراج نے خود کئی طوفانوں کا سامنا کیا، سوراجیہ قائم کیا اور اس ریاست کو مضبوط کیا۔ مہاراشٹر شیواجی کی وجہ سے مشہور ہے۔ انہوں نے مزید کہا آج اس بدعنوان حکومت کی وجہ سے ایک بھی مجسمہ نہ بنانے والے آپٹے کو ٹھیکہ مل جاتا ہے۔ عام طور پر ایک مجسمہ بنانے میں 3 سے 4 سال لگتے ہیں۔ یہ مجسمہ 3 ماہ یا 15 دن میں بن گیا۔ اس پر کسی کا کنٹرول نہیں تھا۔ جب میں نے وہ مجسمہ دیکھا تو مجھے نہیں لگا کہ یہ شیواجی مہاراج ہے۔ لیکن اس حکومت نے کبھی پرواہ نہیں کی۔
احتجاج کے بعد مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران نے تھانے پولیس کمشنر سے ملاقات انہیں میمورنڈم دیکر کانٹریکٹرگ آپٹے کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔