توشہ خانہ کیس ہے کیا اور سزا کے بعد عمران خان کے پاس اب کیا راستہ ہے؟

اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد پنجاب پولیس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو صوبائی دارالحکومت لاہور کی زمان پارک میں واقع ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کر لیا ہے۔

تحریک انصاف نے اس فیصلے کو ’متعصبانہ‘ قرار دیتے ہوئے ’مسترد‘ کیا ہے اور کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ گرفتاری تمام تر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس کے اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں کو ملک گیر ’پرامن‘ احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

عمران خان کو جس مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے وہ توشہ خانہ ریفرنس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس ریفرنس کے تحت گذشتہ برس اکتوبر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کو نااہل قرار دیا گیا تھا، نااہلی کی یہ مدت موجودہ اسمبلی تک تھی۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیتے ہوئے اُن کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں اسلام آباد کی مقامی عدالت میں عمران خان کے خلاف فوجداری کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس پر سماعت گذشتہ کئی ماہ سے جاری تھی۔

آئیے پہلے جان لیتے ہیں کہ توشہ خانہ ریفرنس آخر ہے کیا؟

توشہ خانہ کیس کیا ہے؟
سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے ان کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیا تھا جسے سپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں انھیں ظاہر نہیں کیا، اس طرح وہ ’بددیانت‘ ہیں، لہٰذا انھیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا تھا کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام تر اثاثے چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرواتے۔

دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ عمران خان نے ’جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔

دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 تحائف ملے جن میں گراف کی ’مکہ ایڈیشن‘ گھڑی سمیت مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعد ازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔

ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار روپے سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کی قیمت کا 20 فیصد (قانون میں تبدیلی کے بعد 50 فیصد) ادا کر کے حاصل کیے گئے۔

توشہ خانہ کیس کا تحریری فیصلہ: ’ملزم کی بددیانتی بلا شبہ ثابت ہوئی‘
توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزم، یعنی عمران خان، کے خلاف توشہ خانے کے تحائف حاصل کرنے کے باوجود 2018-2019 اور 2019-2020 میں اثاثوں کی جعلی تفصیلات دینے کا الزام ثابت ہوا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ عمران خان نے سرکاری خزانہ سے فوائد حاصل کیے مگر اسے ’جان بوجھ کر چھپایا‘ جس سے وہ ’بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔‘

’انھوں نے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کی معلومات چھپائی، (ان کی فراہم کردہ معلومات) بعد میں جھوٹی ثابت ہوئی۔ ان کی بددیانتی بغیر کسی شک کے ثابت ہوتی ہے۔‘اس عدالتی فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 174 کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ انھیں یہ الزام ثابت ہونے پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔

’اگر وہ (جرمانے کی) ادائیگی نہ کر سکے تو انھیں مزید چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔‘

جج ہمایوں دلاور فیصلے کے آخری پیراگراف میں لکھا کہ ’ملزم آج عدالت میں موجود نہیں ہیں لہذا گرفتاری کے لیے فیصلے کی کاپی اور وارنٹ آئی جی اسلام آباد کو بھیجا جائے۔‘خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ دوپہر 12 بجے تک ملزم کی جانب سے دلائل دینے کے لیے کوئی بھی عدالت حاضر نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے ساڑھے 12 بجے محفوظ فیصلہ سنایا۔

عمران خان نے کون سے تحائف خریدے؟

عمران خان کی حکومت کے ابتدائی دو ماہ کے دوران لیے گئے ان تحائف میں گراف کی گھڑی شامل ہے، جس کی مالیت کا تخمینہ آٹھ کروڑ 50 لاکھ روپے لگایا گیا جبکہ اسی گفٹ سیٹ میں شامل دیگر تحائف میں 56 لاکھ 70 ہزار مالیت کے کف لنکس، 15 لاکھ مالیت کا ایک قلم اور 87 لاکھ 50 ہزار مالیت کی ایک انگوٹھی بھی شامل تھی۔

ان چار اشیا کے لیے عمران خان نے دو کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کرائی اور یہ تحائف سرکاری خزانے سے حاصل کیے۔

اسی طرح رولیکس کی ایک گھڑی جس کی مالیت 38 لاکھ تھی، عمران خان نے یہ ساڑھے سات لاکھ کے عوض خریدی۔

رولیکس ہی کی ایک اور گھڑی جس کی مالیت 15 لاکھ روپے لگائی گئی، سابق وزیراعظم نے تقریباً ڈھائی لاکھ میں خریدی۔

اسی طرح ایک اور موقع پر گھڑی اور کف لنکس وغیرہ پر مشتمل ایک باکس کی کل مالیت 49 لاکھ تھی، جس کی نصف رقم ادا کی گئی جبکہ جیولری کا ایک سیٹ 90 لاکھ میں خریدا گیا جس کی مالیت ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد مختص کی گئی تھی۔

دستاویر کے مطابق وہ گھڑی جس کے بارے میں یہ الزام ہے کہ اسے بیچ دیا گیا، وہ بھی الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں درج نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ یہ گھڑی سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے سعودی عرب کے پہلے دورے کے دوران تحفے کے طور پر لی تھی۔ اس کی مالیت 85 ملین بتائی گئی ہے جسے توشہ خانے سے 20 فیصد ادائیگی کے بعد لیا گیا۔

عمران خان کے پاس اب کیا آپشن ہیں؟
پاکستان کے قانون کے مطابق عمران خان کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف اعلٰی عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کےمطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو سزا سنائے جانے کے بعد ان کے پاس موجود قانونی راستوں کے آپشن میں سب سے پہلا آپشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلینج کرنا ہے۔

شہزاد ملک کے مطابق عدالت کی جانب سے حکم امتناع آنے پر ایک ممکنہ ریلیف عمران خان کے لیے یہ ہو سکتا ہے کہ عدالت دلائل سن کر فیصلے تک ان کی سزا معطل کر سکتی ہے۔

اس صورت میں عمران خان کو عدالت ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

شہزاد ملک کے مطابق اگر ہائی کورٹ ان کی سزا برقرار رکھتی ہے تو ان کے پاس آخری آپشن سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا ہو گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading