تبریز مقدمہ : پولیس کے فرد جرم سے قتل کا الزام حذف

تبریز مقدمہ : پولیس کے فرد جرم سے قتل کا الزام حذف

رائے پور۔ 9ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام) جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کو ایک سرقہ کے شبہ میں اور ’’ جئے شری رام و جئے ہنومان‘‘ کے نعرے لگانے سے انکار پر ایک کھمبے سے باندھ دیا گیا تھا اور مسلسل 7گھنٹے تک بے رحمی سے پیٹا گیا تھا ۔ یہ واقعہ 22جون کو پیش آیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا اور زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ۔ اس کی بیوہ شائستہ تبریز انصاری نے عدالت سے رجوع ہوکر پولیس کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے ۔چنانچہ پولیس نے ملزمین کے خلاف دفعہ 147 ( فسادات ) ، 149 ( غیرقانونی اجتماع ) ، 342 ( حبس بیجا ) ، 304 ( نادانستہ قتل ) اور 295-A ( دانستہ اور رسوا کن سرگرمیاں ، جن کا مقصد مذہبی جذبات مجروح کرنا ہو ) فرد جرم پرکاش منڈل عرف پپو منڈل ، کمل مہاتو ، سہامو پردھان ، پریم چند مہاتو ، سمنت مہاتو ، مدن نائیک ، شامو نائیک ، مہیش مہالی، کشل مہالی، ست نارائن نائیک اور بھیم سین منڈل کے خلاف فرد جرم پیش کیا ہے ۔تاہم حیرت انگیز طور پر قتل عمد کا الزام حذف کردیا گیا ہے ۔ شائستہ کے وکیل الطاف کے خیال میں پولیس اچانک قلب کی حرکت بند ہوجانے کے الزام کو اپنی غیر ذمہ داری کی وجہ سے پوشیدہ رکھنا چاہتی اور ملزمین کی تائید کرنا چاہتی ہے ۔ایک اور پولیس عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے کہا تھا کہ صدر ہاسپٹل نے غالباً ایک سٹی اسکیان مشین نہ ہونے کی وجہ سے اسکیان نہیں کیا ۔

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading