تبریز ماب لنچنگ کیس: بیوی نے کہا- ملزمان پر درج ہو قتل کا معاملہ، ورنہ کر لوں گی خود کشی

سرائے کیلا-کھسراواں:تبریز انصاری ماب لنچنگ کیس میں پیر کو نیا موڑ آ گیا ۔ تبریز کی بیوی ایس پروین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمان پر قتل کا مقدمہ نہیں درج کیا گیا تو وہ خود کشی کر لیں گی۔ شائستہ پروین نے اہل خانہ کے ساتھ کلکٹریٹ پہنچ کر ڈی سی اے دوڈے سے ملاقات کی۔انہوں نے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔شائستہ نے اس معاملے میں درخواست دے کر پوسٹ مارٹم اورایس آئی ٹی رپورٹ کی کاپی مانگی ہے۔ڈی سی نے انہیں ایس پی سے ملاقات کر ان رپورٹوں کی کاپی لینے کے لئے کہا۔جبکہ ایس پی نے کورٹ سے کاپی لینے کو کہا۔

شائستہ پروین نے درخواست میں کہا کہ تبریز انصاری کی موت دیہاتیوں کے پیٹنے اور پولیس اور ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ایسے میں آگے کی کارروائی کے لئے خاندان کو پوسٹ مارٹم، وسرا اور ایس آئی ٹی رپورٹ کی ضرورت ہے۔اس نے الزام لگایا کہ تفتیشی افسر نے اس معاملے میں دفعہ 302 کو ہٹا کر دفعہ 304 کے تحت غلط طریقے سے کورٹ میں چارج شیٹ پیش کی ہے۔پروین نے بتایا کہ اس سلسلے میں پہلے بھی درخواست دے رپورٹ کی مانگ کی گئی تھی لیکن وہ اب تک نہیں دی گئی ہے۔
بتا دیں کہ اس معاملے میں اس وقت نیا موڑ آیا جب چارج شیٹ میں تمام 11 ملزمان پر لگی دفعہ 302 کو ہٹا کر دفعہ 304 لگائی گئی اور انکو قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا ۔تبریزکی بیوی شائستہ نے انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دباؤ کے چلتے ملزمان پر لگی دفعات میں تبدیلی کی گئی۔تاہم، ضلع کے ایس پی ایس کارتک نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد قتل کا معاملہ نہیں بنتا تھا، تو ملزمان پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کر چارج شیٹ فائل کی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ 17 جون کی رات کو تبریز انصاری جھارکھنڈ کے جمشید پور میں اپنے رشتہ دار کے گھر سے سرائے کیلا-کھرساواں واقع اپنے گاؤں کدمڈیہا واپس آ رہا تھا۔اس دوران راستے میں دھاتی کیڈیہہ گاؤں میں دیہاتیوں نے چوری کے الزام میں اسے پکڑ لیا اورکھمبے سے باندھ کر رات بھر اس کی پٹائی کی۔جبراً اس سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے بھی لگوائے گئے۔دیہاتیوں نے رات بھر پیٹنے کے بعد اگلے دن صبح اسے پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
پولیس نے زخمی تبریز کا علاج صدر ہسپتال میں کرایا، پھر شام کو اسے جیل بھیج دیا گیا تھا۔اس کے چار دن بعد 22 جون کی صبح دوبارہ تبریز انصاری کو جیل سے سنگین حالت میں صدرہسپتال لایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔اس معاملے میں پولیس نے فورا کارروائی کرتے ہوئے 11 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ساتھ ہی کھرساواں تھانہ انچارج کو ڈیوٹی میں غفلت کے لئے معطل کر دیا گیا تھا۔معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی تھی، جس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دے کر چند دن پہلے قتل کی دفعہ کو ہٹا کر تمام 11 ملزمان کو بری کر دیا اور دفعہ 304 لگاکر ان پر غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا گیا.

#UrduNews #TabrezMobLychingCase #Wife #ShaistaParveer #Met #DC #UrduNewsTabrezMobLynching #UrduNewsHindSamachar

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading