ناندیڑ:28جون ۔(ورق تازہ نیوز)ہجومی تشدد کے ذریعہ ملک بھر میں مسلمانوں کونشانے بنانے کانیا کھیل شروع ہوگیا جس میں اب تک سینکڑوں بے قصور مسلمانوں کی جانیں گئی ہیں۔ہجومی تشدد کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتاجار ہا ہے ۔ اور گزشتہ روز جھارکھنڈ میں بھی ایک مسلم نوجوان تبریز انصاری کو چوری کے شبہ میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھااور اُ س سے زبردستی جئے شری رام کے نعرہ لگوائے گئے۔ جس کے خلاف سارے ملک میں میں احتجاج منظم کیا جا رہا ہے۔ناندیڑ میں بھی آج بعد نمازجمعہ ضلع کلکٹر دفتر کے روبرو ہجومی تشدد کے خلاف مجلس اتحاد المسلمین اور ونچت بہوجن اگھاڑی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ منظم کیاگیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ میمورنڈم کے ذریعہ ضلع کلکٹر کے معرفت حکومت ہند سے مطالبہ کیاگیا کہ مرکزی حکومت ہجومی تشدد کے واقعات کو روکنے کےلئے قانون سازی کرے ۔اس کے علاوہ تبریز انصاری کے قاتلوں کوگرفتار کرکے انھیں پھانسی کے پھندے پر لٹکایاجائے تاکہ کوئی ہجومی تشدد کی ہمت نہ کرسکے ۔اس احتجاجی دھرنے سے ایم آئی ایم مراٹھواڑہ صدر جناب فیروز لالہ‘ونچت بہوجن اگھاڑی کے ڈاکٹر یشپال بھنگے کے علاوہ دیگر قائدین نے خطاب کیا ۔مظاہرے میں ہزاروںکی تعداد میں مسلم ‘دلت ‘ اور سکھ بھائیوں نے بھی حصہ لیا ۔اس موقع پر ہپی کلب ٹیم کے والینٹرس نے ٹرافک و دیگرکاموں کی نگرانی بحسن وخوبی کی ۔