نئی دہلی، 25جنوری (یو این آئی) قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ مظاہرے کو جہاں ایک طرف میڈیا کے ایک طبقہ کی طرف نشانہ بنایا جارہا ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اس کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے جس میں بی جے پی کا ’دشاہین (بے سمت) باغ کہنا اور دہلی کے شاہین باغ میں رچی جارہی ملک مخالف سازش رچی جانے والی بات شامل ہے۔
اس پر سخت ردعمل کا اظہا رکرتے ہوئے شاہین باغ خاتون مظاہرین نے کہا کہ بی جے پی یہ سازش رہی ہے کہ شاہین باغ خواتین مظاہرہ کو بدنام کرکے اسے سبوتاژ کیا جائے اور اس بہانے ملک میں جاری ہندو مسلم اتحاد، مشترکہ تہذیب و ثقافت اور مشترکہ اقدار کوختم کرنا ہے جو شاہین باغ خواتین مظاہرے کی وجہ سے ملک میں نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اس سے پہلے شاہین باغ خاتون مظاہرین پر پیسے لیکر مظاہرہ کرنے کا گھناؤ نا الزام لگاچکی ہے جس پر اسے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا جاچکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کی وجہ سے ملک میں سو سے زائد مقامات پر صرف خواتین کا مظاہرہ جاری ہے اور ہر روز اس میں دسیوں مقامات کا اضافہ ہورہا ہے۔ یہ تحریک پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور ضلع سطحً سے لیکر اب قصبوں اور گاؤں تک پھیل چکی ہے۔ اس کی وجہ سے بی جے پی پوری طرح بوکھلا گئی ہے اور وہ اپنے پرانے طریقے سے جھوٹی افواہ پھیلانا، ملک کے خلاف نعرے لگانا جیسے پرانے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین حب الوطنی کی مثال پیش کر رہا ہے اور صبح شروعات قومی ترانہ جن من گن سے ہوتی ہے اور حب الوطنی اور انقلابی نعرے لگائے جاتے ہیں۔
پیپلز آف ہوپ کے چیرمین اور سماجی کارکن رضوان احمد نے کہاکہ شاہین باغ یا ملک کے دیگر حصوں میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہروں میں لگنے والے آزادی کے نعرے سے بی جے پی اس لئے پریشان ہے کیوں کہ جنگ آزادی میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ اس کے رہنما انگریزوں کی مخبری کرتے ہوئے پائے گئے تھے۔اس لئے خواہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ہوں یا بی جے پی کا کوئی دوسرا آزادی کے نعرے سے بوکھلائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرے کی علامت بن چکا ہے اور یہ گنگا جمنی تہذیب کی مثال بن چکا ہے یہاں ہون بھی ہوتا ہے، قرآن کی تلاوت بھی، سکھ کیرتن ارداس بھی کرتے ہیں اور عیسائی بائبل بھی پڑھتے ہیں۔ یہاں خطاب کرنے والوں میں ہندو مسلم، سکھ عیسائی اور تمام طبقے کے لوگ شامل ہیں جو یہاں آکر اس کالا قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بی جے پی والے فرضی ویڈیو بنواکر وائرل کرواتے ہیں اور پھر اس ویڈیوں کی بنیاد پر بیان دیکر شاہین باغ کو بدنام کرتے ہیں۔