بھیونڈی کارپوریشن کے دو کمشنروں پر ٹھیکیدار نے کیا پولیس کمشنر سے مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن میں ایک عجیب و غریب معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ ایک ٹھیکیدار نے کارپوریشن کے سابق اور موجودہ کمشنروں پر چیٹنگ اور فوجداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ٹھیکیدار کا الزام ہے کہ کارپوریشن نے کام کرا لیا اور 17 ماہ گزرنے کے بعد بھی بل ادا نہیں کر رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں ٹھیکیدار نے بھیونڈی پولیس محکمے پر بھی دونوں کارپوریشن کمشنروں پر کیس درج کرنے پر آنا کانی کا بھی الزام لگایا ہے۔ ٹھیکیدار کے اس قدم سے کارپوریشن میں طرح طرح کے چرچاوں کا بازار گرم ہے ۔

بھیونڈی کارپوریشن کے ٹھیکیدار مقتدر عبد الاحد بوبیرے نے پولیس کمشنر کو دیئے میمورنڈم میں بتایا ہے کہ بوبیرے اینڈ ایسوسی ایشن نامی ان کی کمپنی کارپوریشن میں ٹھیکیدار ہے ۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بھیونڈی این سی پی شہر ضلع صدر محمد خالد گڈو کے بھائی وارڈ نمبر 16 (ب) کے اس وقت کے کارپوریٹر شیخ محمد زاہد مختار احمد نے 4 فروری 2016 کو صمدنگر کے نالے پر گھر نمبر 375 سے 64 تک سلیب ڈالنے کا مطالبہ کارپوریشن سے کیا تھا سلیپ کام کے لئے 23،578،95 روپئے کا ٹینڈر نکالا گیا تھا ۔ کل تین عرضیاں آنے کے بعد سب سے کم شرح والی ٹینڈر بوبیرے اینڈ ایسوسی ایشن کمپنی کو کام کرنے کی منظوری دی گئی۔ تین ماہ میں ادائیگی دینے کے وعدے کے بعد کارپوریشن کی منظوری پر بوبیرے اینڈ ایسوسی ایشن کمپنی نے کام شروع كياكام کے لئے سود پر 20 لاکھ روپئے لے کر خرچ كيا ۔كام مکمل ہوکر 17 ماہ گزر گئے لیکن کام کی مقررہ رقم مجھے نہیں دی جا رہی ہے ۔ جبکہ 20 لاکھ روپئے کا اب تک چار لاکھ 15 ہزار روپیہ بطور سود دے چکے ہے ۔

ٹھیكیدار نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کام مکمل ہونے کے بعد اس کی جانچ کئے جانے کے باوجود سے بل ادا کر مجھے پھنسانے کی سازش ہو رہی ہے ۔ ٹھیکیدار نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ کئی بار انہوں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں اور اے سی پی ، ڈی سی پی کو میمورنڈم دے کر اس وقت کے کمشنر یوگیش مہسے اور موجودہ کمشنر منوہر ہیرے کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 166، 166 ع، 167، اور 420 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی ۔

لیکن ان پولیس افسران نے ان کی مدد نہیں کی جسكے بعد مجبورا انہیں کمشنر کا دروازہ کھٹکھٹانے پڑا۔ مقتدر عبد الاحد بوبیرے نے بتایا کہ انھیں فنڈ نہ ہونے کی بات کر بل نہیں دیا جا رہا ہے ۔جبکہ کارپوریشن کی تجوری میں فی الحال 60 کروڑ روپیہ ہے۔ بوبیرے کے اس قدم کے بعد دونوں کمشنروں پر چيٹنگ کا کیس درج ہونے کے آثار نظر آنے لگے ہے ۔ بتا دیں کہ بھیونڈی کارپوریشن کے اس وقت کے کمشنر یوگیش مہسے نے کام میں شفافیت نہ ہونے کے سبب سال 2018 سے پہلے کیے گئے تمام کاموں کے بل کی ادائیگی روک دی تھی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading