بھیونڈی ( شارف انصاری):- کارپوریشن اپنے حدودی علاقے میں کئے جانے والے غیر قانونی تعمیرات کو روکنے میں جہاں پوری طرح تیار رہتی ہے ۔ وہیں کارپوریشن انتظامیہ خود ایگل كٹركشن کے ذریعے ڈرینیچ لائن منصوبہ کے تحت بغیر پرمیشن کے تعلقہ کے كاریولی گاؤں میں بنائے جا رہے ایف ٹی پی پلانٹ لگانے کے کام میں سی آر زیڈ کی خلاف ورزی کرا رہی ہے ۔ اتنا ہی نہیں مذکورہ پلانٹ نو ڈیولپمنٹ زون میں لگایا جا رہا ہے۔ جسکی تمام شکایت کے باوجود انتظامیہ تجاہل عارفانہ میں مست ہے ۔

واضح ہو کہ بھیونڈی کارپوریشن علاقے کے تحت سورن جینتی نگروتتھان مہابھيان کے تحت ڈرینیچ لائن کا کام ایگل تعمیراتی کمپنی کے ذریعہ 427 کروڑ 93 لاکھ میں کیا جا رہا ہے ۔ جسكے دوسرے ٹپے کا کام شروع ہے ۔ اس درمیان ٹھیکیدار کمپنی ایگل كنٹركشن بھیونڈی تعلقہ کے كاریولی گرام پنچايت کے سروے نمبر 187 اور 153 کی تین ایکڑ زمین پر بغیر کسی پرمیشن گندگی اسٹورج (ذخیرہ) مراکز کیلئے ایف ٹی پی پلانٹ لگانے کا تعمیراتی کام کر رہی ہے ۔ جس کی شکایت کانگریسی کارپوریٹر ارون راوت نے پرنسپل سکریٹری، ایم ایم آر ڈی اے کمشنر، آلودگی کنٹرول بورڈ کے آپریٹر، ضلع مجسٹریٹ اور میونسپل کمشنر کو میمورنڈم دے کر کی ہے ۔ مذکورہ میمورنڈم میں کارپوریٹر ارون راوت بتایا ہے کہ جہاں پر مذکورہ تعمیراتی کام شروع ہے وہ جگہ سی آر زیڈ کے تحت آتی ہے ۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے بتایا ہے کہ یہ جگہ ایم ایم آر ڈی اے کے "نو ڈیولپمنٹ زون” میں ہے ۔ لیکن ٹھیکیدار نے اس كٹركشن کے لئے ایم ایم آر ڈی اے سے کسی بھی طرح کا کوئی پرمیشن نہیں لیا ہے ۔ اس وجہ سے کارپوریشن کے اوپر ایم آر ٹی پی کے تحت کیس درج ہونا چاہیئے۔ انہوں نے میمورنڈم میں کہا ہے کہ ٹھیکیدار ایگل كنٹركشن مذکورہ پلانٹ کے لئے مہاراشٹر کے آلودگی کنٹرول بورڈ سے کوئی این او سی نہیں لیا ہے ۔ اس کے باوجود ایگل کا كٹركشن کام شروع ہے ۔ کارپوریٹر ارون راوت کی شکایت کے بعد ایم ایم آر ڈی اے نے ضلع مجسٹریٹ کو تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ جہاں پر اليگل كنٹركشن کیا جا رہا ہے ۔ وہ سرکاری گرچرن کی زمین ہے. اس ٹھیکیدار کا كنٹركشن غلط ہے جسے فوری طور پر توڑا جانا چاہیئے ۔ کارپوریٹر ارون راوت نے فورا اليگل كنٹركشن کو توڑنے کے ساتھ ٹھیکیدار پر کاروائی کرنے کے ساتھ کارپوریشن پر ایم آر ٹی پی کے تحت کیس درج کرنے کی مانگ کی ہے ۔
واضح رہے کہ تین سال پہلے انجورپھاٹا سے ونجارپٹی ناکہ تک ایگل انفراسٹرکچر کمپنی کی طرف سے سڑک ناقص تعمیر کی گئی تھی ۔ جسكی تحقیقات آئی آئی ٹی کی طرف سے کرائی گئی ۔ جس کی جانچ کے بعد سڑک کی کوالٹی ناقص ہونے کی جانچ رپورٹ آئی آئی ٹی کی طرف سے کمشنر کو سونپے جانے کے بعد کمشنر منوہر ہیرے نے سڑک کی تعمیر کے کام میں ہوئی بدعنوانی کے خلاف کارپوریشن شہر انجینئر سمیت پانچ دیگر انجینئرز کو معطل کر دیا ہے ۔ ساتھ ہی اسے بلیک لسٹ میں ڈالنے کا حکم خود وزیراعلی نے دیا تھا ۔