بھیونڈی میں 8 فروری کو اجمیر نگر کے علاقے میں ایک شادی کی تقریب میں امام صاحب نے نکاح پڑھانے سے انکار کردیا اور اس کا مکمل بائیکاٹ کیا اس کی وجہ اس شادی کی تقریب میں گانے بجانے ناچ گانے جیسے خرافات کی گئی۔ جس کا رد عمل میں مولانا رفیق عالم صاحب نے اپنے غصے کا اظہار کیا اور نکاح پڑھانے سے انکار کردیا اور بھیونڈی میں تنظیم علمائے اہلسنت کے علمائے کرام سے بھی گذارش کی وہ ایسے شادی کی تقریب میں نکاح نہ پڑھا ۓ جس میں ناچ گانا بجانا جیسی خرافات ہوتی ہو۔
اس ردعمل سے جن کے یہاں شادی تھی وہ لوگ کافی شرمندہ ہوۓ ان لوگوں نے مولنا سے رابطہ کیا اور اعلانیہ توبہ کی امام صاحب سے معافی بھی مانگی۔ اس کے بعد مولانا رفیق عالم صاحب نے نکاح پڑھایا۔ اس عمل سے خوش ہو کر مولانا کی حوصلہ افزائی میں ہمارے عزیز سید عارف علی رضوی، کلیان (سابق پرنسپل اینگلو اردو ہائی اسکول نیرل) نے کوٹرگیٹ ریلیف فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری اعجاز شیخ سے بات کرتے ہوۓ اپنے تاثر میں فرمایاںمعاشرے کی اصلاح اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے علمائے کرام کا کردار ہر دور میں نہایت اہم اور فیصلہ کن رہا ہے۔
جب شادی بیاہ جیسی بابرکت اور مسنون تقریبات میں غیر شرعی امور، بے جا شور و غل، موسیقی اور لہو و لعب کو فروغ دیا جانے لگے تو یہ محض ایک سماجی خرابی نہیں رہتی بلکہ اسلامی تہذیب، دینی مزاج اور روحانی برکتوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر علمائے دین اصلاحِ معاشرہ کی نیت سے نکاح پڑھانے سے اجتناب اختیار کریں تو یہ بظاہر سخت قدم ضرور محسوس ہوتا ہے مگر اس کے نتائج نہایت مثبت اور دور رس ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے لوگوں کے دلوں میں یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ نکاح محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت ہے جس کے تقاضے بھی پاکیزہ ہونے چاہئیں۔
*محترم امام صاحب اجمیرنگر مسجد مولانا رفیق عالم دامت برکاتہم العالیہ کا حالیہ اقدام اسی اصلاحی فکر کی روشن مثال ہے۔* آپ نے دینی غیرت، شرعی بصیرت اور سنتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کا عملی ثبوت دیتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ نکاح کی برکت کو گناہوں اور خلافِ شرع رسومات کے ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا۔
یہ قدم نہ صرف لائقِ تعریف ہے بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دیگر علمائے کرام بھی اس سنجیدہ اور باوقار طرزِ عمل میں تعاون کریں تاکہ معاشرہ آہستہ آہستہ ان خرافات سے پاک ہو اور شادی بیاہ کی تقریبات واقعی اسلامی سادگی، وقار اور برکت کا نمونہ بن سکیں۔