بھیونڈی:رافیل ہوائی جہاز گھوٹالہ تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالا ہے – شعیب گڈو

رافیل گھوٹالے کے خلاف بھیونڈی کانگریس کا مورچہ

بھیونڈی (شارف انصاری):- رافیل ہوائی جہاز گھوٹالے کے خلاف جاری ملک بھر میں کانگریس کا احتجاج اب دہلی سے مہاراشٹر کے دیگر اضلاع تک پہنچ گیا ہیں ۔ اسی تناظر میں آج مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے اعلان پر بھیونڈی شہر ضلع کانگریس کمیٹی نے رافیل گھوٹالے کی جانچ جے پی سی سے کرانے کی مانگ کو لے شہر کے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے مد مقابل پرانی مہانگر پالیکا دفتر سے پرانت آفسر کے دفتر تک مورچہ نکال کر زوردار احتجاج اور مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں نعرے تحریر کی ہوئی تختی اور بینر لئے ہوئے رافیل گھوٹالے اور بی جے پی حکومت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے ۔ چوکیدار چور ہے، ہوائی جہاز گھوٹالے کی جانچ جے پی سی سے کراؤ، بدعنوان حکومت مردہ باد جیسے نعرے لگاتے ہوئے کانگریس کارکنان و لیڈران کا قافلہ کانگریس کے کے صدر شعیب گڈو کی قیادت میں شہر کے پرانت دفتر تک پہنچاجہاں پر کانگریسیوں نے زبردست احتجاج کیا ۔

پرانت دفتر پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے بھیونڈی شہر ضلع صدر شعیب گڈو نے کہا کہ 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی بدعنوانی کے الزام لگاتے ہوئے حکومت میں آئی تھی۔ اس وقت مودی نے کہا تھا دہلی میں میں رہوں گا تو نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا پر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مودی حکومت کا رافیل گھوٹالہ تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ اپنے دوست انل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا ہے ۔کانگریس کے دور اقتدار میں جو رافیل طیارے 526 کروڑ میں خریدی کے لئے طے ہوا تھا وہی طیارہ بی جے پی نے انل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لئے 1670 کروڑ میں دوبارہ سے طئے کیا ۔ کانگریس نے 126 طیاروں کا سودا کیا تھا مودی نے اس کو رد کر کے اس کی تعداد کو کم کرکے محض 36 لڑاکو طیاروں کا سودا کیا ہے ۔ وہ بھی ملک کا 41205 کروڑ روپئے زیادہ خرچہ کرکے۔ یہ ملک کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے۔ پورے ملک کی یہ مانگ ہے اس گھوٹالے کی جانچ جے پی سی کے ذریعہ سے کرائی جائیں ۔

تھانے دیہی کانگریس کے صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ سریش ٹاورے نے کہا کہ کانگریس کی یو پی اے حکومت نے ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ جو ملک کی کمپنی ہے اسے لڑاکو ہوائی جہاز بنانے کا ٹھیکہ دیا تھا پر مودی حکومت نے وہ ٹھیکہ منسوخ کر کے اپنے دوست کی کمپنی انل امبانی کو دے دیا ۔ جس کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ یہ فیصلہ صرف بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے ۔ سابق رکن اسمبلی یوگیش پاٹل نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے ایچ اے ایل سے 30 ہزار کروڑ کا ٹھیکہ چھین کر پبلک سیکٹر کی کمپنی کو دے دیا ۔ مودی حکومت کو سرکاری کمپنی کے مقابلے میں نجی کمپنی کے مفادات کی زیادہ فکر ہے۔
سابق رکن اسمبلی رشید طاہر مومن نے کہا کہ ہندوستان ایئروناٹیکل لمیٹڈ کو 40 سال کا ہوائی جہاز بنانے کا تجربہ ہے وہیں پر انل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس ایک غیر تجربہ کار کمپنی ہے ایسے میں ایسی کمپنی کو رافیل جیسے ہوائی جہاز کا ٹھیکہ دینا ملک کی حفاظت کے ساتھ خطرہ ہے ۔
پارٹی ترجمان اقبال صدیقی نے کہا کہ وزیر اعظم ایک جھوٹ کو سچ کرنے کے لئے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں کانگریس کی یو پی اے حکومت نے 136 طیاروں کا آرڈر دیا تھا لیکن مودی حکومت نے ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے محض 36 لڑاکا طیاروں کا آرڈر دیا ہے اور وہ بھی مہنگی قیمتوں پر ۔ اقلیتی محکمے کے صدر طفیل فاروقی نے کہا کے ملک کے وزیراعظم ملک کے چوکیدار ہونے کا دعوی کرتے ہے جبکہ اب وہ خود امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ملک کی عوام کو لوٹ رہے ۔ رافیل گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے اس کی جانچ ہونی چائیں تاکہ عوام کے روبرو یہ ثابت ہوجائیں بھارتیہ جنتا پارٹی گھوٹالی کی سرکار ہے ۔ اس لئے رافیل گھوٹالے کی جانچ جے پی سی سے کرائی جائیں ۔ مورچے کے اختتام کے بعد پرانت افسر کو جے پی سی کے مطالبہ کے لئے صدر جمہوریہ کے نام مکتوب سونپا گیا ۔

اس پروگرام میں کانگریس کے سینئر لیڈر پپو راكا، خواتین صدر ریحانہ انصاری، عمران ولی محمد خان، پرسانت لاڈ، کارپوریٹر ملک مومن، سفیان شیخ ، یوتھ کانگریس صدر، اقلیتی محکمے کے صدر طفیل فاروقی، شفیق بابو، تمام فرنٹ کے صدر، پارٹی کے سبھی کارپوریٹرز ، پارٹی کے لیڈران اور کانگریس کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading