مکہ مکرمہ / عمان: سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک نہایت ایمان افروز اور دلوں کو نرم کر دینے والی خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کو جذباتی کر دیا ہے۔ اردن سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان بدر بدران، جو برسوں سے بولنے کی صلاحیت سے محروم تھے، نے عمرہ کی ادائیگی کے دوران خانہ? کعبہ کے سامنے اچانک بولنا شروع کر دیا۔عینی شاہدین کے مطابق، طواف کے دوران جب جذبات اپنے عروج پر پہنچے تو بدر کے لبوں سے پہلا جملہ ادا ہوا: “لا ?ل? ?لا الل?”۔ یہ روح پرور منظر مسجدِ حرام میں موجود ہر شخص کے لیے نہایت رقت انگیز ثابت ہوا، ا?نکھیں اشکبار ہو گئیں اور فضا سبحان اللہ کے نعروں سے گونج اٹھی۔
خاندان کے افراد کے مطابق، بدر پیدائشی طور پر گونگے نہیں تھے۔ تقریباً پانچ برس کی عمر میں ایک شدید نفسیاتی صدمے (خوف) کے بعد ان کی بولنے کی صلاحیت اچانک ختم ہو گئی تھی۔ اگرچہ ان کی سماعت برقرار رہی، مگر طویل علاج، ڈاکٹروں اور ماہرینِ نفسیات کی مسلسل کوششوں کے باوجود وہ گفتگو کرنے سے قاصر رہے۔ یوں وہ برسوں تک سنتے تو رہے، مگر بول نہیں پاتے تھے۔بدر نے 13 جنوری کو عمرہ کی نیت سے اپنے روحانی سفر کا ا?غاز کیا اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک کے سفر کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کرتے رہے۔ 17 جنوری کو مکہ پہنچنے کے بعد طواف کے دوران وہ حیرت انگیز لمحہ ا?یا جب ان کی گویائی لوٹ ا?ئی اور انہوں نے خود اس کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے لبوں سے ادا ہونے والا پہلا لفظ کلمہ? توحید تھا۔یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔ اگرچہ چند افراد نے اس واقعہ پر سوالات بھی اٹھائے، تاہم اکثریت نے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور دعا کی قبولیت کا مظہر قرار دیتے ہوئے بدر کے لیے دعاو?ں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
بدر کی والدہ نے فیس بک پر جذبات سے لبریز پیغام میں لکھا:“الحمد للہ حمداً کثیراً… پچیس برس کے صبر کے بعد اللہ نے ہمیں یہ عظیم نعمت عطا کی کہ ہم نے اپنے بیٹے بدر کو خانہ? کعبہ کے سامنے ‘لا ?ل? ?لا الل?’ کہتے سنا۔ یہ خوشی لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔”بدر اردن کے معروف فٹبال کلب الف?صلی کے پرجوش حامی بھی ہیں۔ کلب نے اپنے ا?فیشل پیج پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ چھبیس برس کی خاموشی کے بعد بدر بدران نے کعبہ? مشرفہ کی زیارت کے موقع پر اپنی گویائی دوبارہ پائی، جو نہ صرف شائقین بلکہ پورے خطے کے لیے خوشی کی خبر ہے۔بدر کے ایک استاد کے مطابق، یہ کیفیت بچپن کے شدید نفسیاتی صدمے کے بعد پیدا ہوئی تھی، جس کا طب کے پاس کوئی مکمل حل موجود نہ تھا۔
اکیس برس تک جاری رہنے والی یہ ا?زمائش صبر اور دعا کے ساتھ گزری، اور پھر وہ لمحہ ا?یا جس نے لاکھوں دلوں کو ایمان کی تازگی بخش دی۔یہ واقعہ، چاہے جس زاویے سے دیکھا جائے، امید، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کی ایک زندہ مثال بن کر سامنے ا?یا ہے۔ مسجدِ حرام سے سامنے ا?نے والی یہ ویڈیو ا?ج بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور ہر دیکھنے والا بے اختیار یہی کہہ اٹھتا ہے