بلڈ کینسر کا شمار سنگین امراض میں ہوتا ہے، لیکن اب حکومت سے اجازت ملنے کے تقریباً مہینے بھر بعد بلڈ کینسر کو ختم کرنے والی ’کائمیرک انٹیجن رسپٹر-ٹی سیل تھیراپی (سی اے آر-ٹی سیل تھیراپی) اسپتالوں تک پہنچ گئی ہے۔ ملک کے تقریباً 15 اسپتالوں میں اس تھیراپی کو شروع کیا گیا ہے جہاں اگلے ایک سال کے اندر 1000 بلڈ کینسر کے مریضوں کے علاج کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ شمالی ہند میں اس تکنیک کے لیے میکس ہیلتھ کیئر کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔ یہاں اس تھیراپی سے علاج کرانے کے لیے دو مریضوں نے اپنا رجسٹریشن بھی کروا لیا ہے۔
یہ تکنیک کینسر مریض کے امیون سیلس پر مبنی ہوتی ہے۔ سی اے آر-ٹی تھیراپی میں مریض سے اس کے امیون سیلس لیے جاتے ہیں اور پھر جینیاتی طور سے تجربہ گاہ میں تیار کیے جاتے ہیں۔ یعنی آسان زبان میں سمجھا جائے تو مریض کے سیلس (خلیات) کو کینسر سے لڑنے لائق بنایا جاتا ہے۔ جب ایک بار یہ سیلس کینسر سے لڑنے لائق ہو جاتے ہیں تو واپس انھیں مریض میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے اخذ کیا ہے کہ 80 فیصد معاملوں میں اس تھیراپی میں کامیابی ملی ہے یعنی کینسر کو شکست دیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کینسر سے بڑھتے خطرے کو دیکھتے ہوئے 2018 میں آئی آئی ٹی ممبئی کے محققین نے لمفوما اور لیوکیمیا بلڈ کینسر پر اپنی تحقیق شروع کی تھی۔ 2021 میں انھوں نے یہ سی اے آر-ٹی سیل تھیراپی کو کلینکل ٹرائل کے لیے بھیجا۔ ممبئی کے ٹاٹا کینسر اسپتال سمیت ملک کے کئی بڑے طبی اداروں نے کلینکل ٹیسٹ میں اسے محفوظ اور 80 فیصد اثردار پایا ہے۔
اسی کلینکل ٹرائل کی کامیابی کے بعد 12 اکتوبر کو اس تھیراپی کو ملک کے دیگر اسپتالوں تک پہنچانے کی اجازت ملی۔ اس تھیراپی کے استعمال کے لیے ملک کے 15 اسپتالوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔
سی اے آر-ٹی سیل تھیراپی کو لے کر دنیا میں پہلی کوشش امریکی سائنسداں نے 2009 سے 2010 کے درمیان شروع کی تھی۔ حالانکہ اس ٹرائل کو سرکاری اجازت 2018 میں ملی اور اسی کے بعد 2018 میں ہندوستانی سائنسدانوں نے اس پر تحقیق شروع کی۔ امریکہ کے علاوہ یہ تکنیک اب ہندوستان، اسپین، جرمنی اور چین میں استعمال کی جاتی ہے۔
اس تھیراپی کا خرچ تقریباً 30 سے 35 لاکھ روپے کے درمیان آئے گا۔ لیکن جلد ہی اس کے مزید سستا ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس تھیراپی کی مدد سے بلڈ کینسر کے مریضوں کو بڑی راحت ملے گی۔