بلڈھانہ کے سرگرم لیڈر سندیپ شیلکے سپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل
ہرش وردھن سپکال کی موجودگی میں تلک بھون میں شمولیتی تقریب کا انعقاد، بی جے پی حکومت پر شدید تنقیدیں
ممبئی: بلڈھانہ ضلع کے سرگرم لیڈر سندیپ شیلکے نے اپنے سینکڑوں حامیوں اور کارکنان کے ساتھ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ شمولیتی تقریب ممبئی میں کانگریس کے ریاستی ہیڈکوارٹر تلک بھون میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سپکال نے سندیپ شیلکے اور ان کے ساتھیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں ضلع میں کانگریس کی تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرمی سے کام کرنے کی اپیل کی۔
اس تقریب میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور تلنگانہ کے شریک انچارج سچن ساونت، ریاستی نائب صدر (تنظیم و انتظامیہ) ایڈوکیٹ گنیش پاٹل، بلڈھانہ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اور سابق رکن اسمبلی راہل بوندرے، ریاستی کانگریس کے ایس سی شعبہ کے صدر سدھارتھ ہتھی امبیرے سمیت متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ملک اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت کو اقتدار کا غرور ہو گیا ہے اور وہ قوانین و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی انداز میں حکومت چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ اور تقسیم پیدا کرنے والی سیاست کا جواب صرف کانگریس کے ہمہ گیر اور جامع نظریے سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی وہ سیاسی قوت ہے جو ملک کو صحیح سمت میں لے جا سکتی ہے، اسی لیے بڑی تعداد میں لوگ کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔
سپکال نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی میں جو بھی سنجیدگی سے کام کرے گا اسے آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے نظریے کو گھر گھر تک پہنچائیں، پارٹی کی تنظیم کو مضبوط کریں اور نئی نسل کو کانگریس سے جوڑنے کی کوشش کریں۔
اس موقع پر انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر بھی سخت تنقید کی۔ سپکال نے کہا کہ دیویندر فڑنویس کی جانب سے ان کے بارے میں دیے گئے بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کے دل میں جو بات تھی وہ زبان پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں بھی اسی سوچ کے تحت چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاجپوشی کی مخالفت کی گئی تھی اور سماج کے بڑے طبقے کو علم و تعلیم سے محروم رکھا گیا تھا۔ سپکال نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اپنی سوچ پر نظرثانی کرنی چاہیے اور “گیٹ ویل سون، فڑنویس”۔
ہرش وردھن سپکال نے ایل پی جی گیس کی قلت کے مسئلے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جنگی حالات کی وجہ سے گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، لیکن حکومت کے پاس مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو صرف “وشوگرو” ہونے کے دعوے کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور متعلقہ فریقوں سے بات چیت کر کے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ملک میں گیس اور ایندھن کی قلت پیدا نہ ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ گیس کی قلت کی وجہ سے ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز کا بند ہونا معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا، اس لیے حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔