شام کے سرکاری ٹیلی وژن سے نشر بیان میں اپوزیشن فورسز نے اعلان کیا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔ جیلوں سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والا یہ بیان بشار الاسد حکومت کے خلاف لڑنے گروہوں کے اتحاد نے جاری کیا ہے جس میں تمام عسکریت پسندوں اور عام شہریوں سے ’شام کی آزاد ریاست‘ کے سرکاری اداروں کی حفاظت کی اپیل کی گئی ہے۔

باغی فوجیوں نے شام کو ’آزاد‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صدر بشار الاسد ملک سے چلے گئے ہیں۔ٹیلیگرام پر ہیت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ ایک تاریک دور کا خاتمہ ہوا اور یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ بے گھر ہو گئے تھے یا اسد کے دورِ حکومت میں قید تھے، وہ اب گھر آ سکتے ہیں۔
ایچ ٹی ایس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’نیا شام‘ ہو گا جہاں ’ہر کوئی امن اور انصاف کے ساتھ رہے گا۔‘
دمشق کے مرکز میں واقع اہم سرکاری اداروں جن میں وزارت دفاع اور شامی مسلح افواج کے ایک تاریخی مقام ’اموی سکوائر‘ میں تقریبات شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بلند آواز میں موسیقی کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں اور تقریباً درجن کے قریب لوگ ایک ٹینک کے گرد رقص کر رہے ہیں جسے مبینہ طور پر فوج نے چھوڑ دیا تھا۔
مبینہ طور پر شام کی وزارت دفاع کے حکام نے دمشق میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر کی عمارت کو خالی کر دیا ہے۔

