نئی دہلی : بابری مسجد ملکیت مقدمہ پر سپریم کورٹ میں جمعہ کو 23 ویں دن بھی شنوائی ہوئی ۔ اس دوران مسلم فریق نے کہا کہ ہندو سورج کی پوجا کرتے ہیں ، لیکن اس پر مالکانہ حق نہیں جتا سکتے ۔ دراصل رام للا وراجمان نے پہلے دلیل دی تھی کہ ہندو ندیوں اور پہاڑوں کو پوجتے ہیں آئے ہیں ۔ اسی طرز پر رام جنم بھومی بھی قابل ستائش ہے ۔
جمعہ کو لنچ بریک سے پہلے سنی وقف بورڈ کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ظفریاب جیلانی اور بعد میں راجیو دھون نے دلیلیں رکھیں ۔ بورڈ نے ہندو فریق کی اس دلیل کو بھی خارج کیا ، جس میں کہا تھا کہ 1934 کے بعد متنازعہ مقام پر نماز نہیں پڑھی گئی ۔ جیلانی نے کہا کہ 1934 کے دنگے کے کچھ مہینے بعد مسجد میں دوبارہ نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ آخری بار نماز 1949 میں پڑھی گئی تھی ۔
#Ayodhya #BabriMasjid #RamManidr #SupremeCourt #UrduNews