راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے بدھ کے روز ایودھیا کے بابری مسجد- رام مندر تنازعہ میں سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے قبل ملک کے عوام سے عدالت کے فیصلے کو فراغ سے قبول کرنے کی اپیل کی ہے۔ آر ایس ایس نے کہا کہ رام مندر سے متعلق عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو سب کو کھلے دل سے اس کو قبول کرنا چاہئے۔ آر ایس ایس نے یہ اپیل بدھ کے روز دہلی میں شروع ہونے والے اپنے پرچارکوں کے اہم اجلاس سے قبل کی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اسی طرح کی اپیل کر چکے ہیں۔

غورطلب ہے کہ دہلی میں منعقدہ ’سنگھ پرچارکوں‘ کا اجلاس 30 اکتوبر سے 5 نومبر تک ہریدوار میں منعقد ہونا تھا لیکن اسے ملتوی کر دیا گیا اور پھر اچانک دہلی میں اجلاس شروع ہو گیا۔ سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت، نائب سربراہ سریش بھیاجی جوشی سمیت دیگر اعلی عہدیدار اس اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔
اس اجلاس کے درمیان آر ایس ایس کے ’پرچار پرمکھ‘ ارون کمار کے ذریعہ جاری کردہ ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’رام جنم بھومی پر مندر کی تعمیر سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے آنے کی کچھ دنوں میں توقع کی جارہی ہے۔ ہر ایک شخص کو کھلے دل سے فیصلہ کو قبول کرنا چاہئے۔ فیصلہ آنے کے بعد کے بعد ملک میں ماحول خوشگوار رہے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اجلاس بھی اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔‘‘
आगामी दिनों में श्रीराम जन्मभूमि पर मंदिर निर्माण के वाद पर सर्वोच्च न्यायालय का निर्णय आने की संभावना है।निर्णय जो भी आए उसे सभी ने खुले मन से स्वीकार करना चाहिए।निर्णय के पश्चात देश भर में वातावरण सौहार्दपूर्ण रहे,यह सबका दायित्व है।इस विषय पर भी बैठक में विचार हो रहा है।
— RSS (@RSSorg) October 30, 2019
اس سے قبل سنگھ کے پرچار پرمکھ ارون کمار نے بتایا کہ اس سے قبل ہری دوار میں پرچارکوں کے ساتھ دو روزہ اجلاس 30 اکتوبر سے 5 نومبر تک طے تھا لیکن کچھ ضروری مشغولیات کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا، اب یہ اجلاس ہری دوار کی بجائے دہلی میں ہو منعقد ہو رہا ہے۔
30 अक्तुबर से 5 नवंबर तक हरिद्वार में प्रचारक वर्ग के साथ दो दिन की बैठक पहले से निश्चित थी। प्रचारक वर्ग आवश्यक कारणों से स्थगित किया गया है। परंतु बैठक हरिद्वार के स्थान पर अब दिल्ली में हो रही है।
– अरुण कुमार, अखिल भारतीय प्रचार प्रमुख
— RSS (@RSSorg) October 30, 2019
قبل ذکر ہے کہ ایودھیا کے بابری مسجد – رام مندر تنازعہ سے متعلق مقدمہ پر سپریم کورٹ میں حتمی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچھود، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر پر مشتمل 5 رکنی بنچ نے 40 دن تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ ادھر موجودہ چیف جسٹس رنجن گگوئی 17 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں، ایسی صورتحال میں توقع کی جا رہی ہے کہ فیصلہ سبکدوشی سے قبل ہی سنایا جا سکتا ہے۔
اس سے پہلے وزیر اعظم مودی اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی الگ الگ مواقع پر مقدمہ کے ممکنہ فیصلہ کے حوالہ سے ماحول خوش نما بنائے رکھنے کی اپیل کر چکے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
