ایل پی جی کی فراہمی معمول پر، بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے ریاست ی حکومت کی سخت کارروائی: چھگن بھجبل

ایل پی جی کی فراہمی معمول پر، بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے ریاستی حکومت کی سخت کارروائی: چھگن بھجبل

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر برائے خوراک و شہری رسد چھگن بھجبل نے قانون ساز کونسل میں بتایا کہ ریاست میں ایل پی جی گیس کی فراہمی کو معمول پر رکھنے اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے حکومت نے ضلع سطح پر خصوصی نگرانی دستے تشکیل دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے حکم نامے کے تحت تمام ضلع کلکٹروں اور علاقائی افسران کو گیس کی غیر قانونی فروخت کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

قانون ساز کونسل کے ضابطہ 93 کے تحت پیش کیے گئے نوٹس پر بیان دیتے ہوئے چھگن بھجبل نے ایوان کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث ایندھن کی سپلائی پر دباؤ پڑنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے، جس کے پیش نظر مرکز اور ریاستی حکومتوں نے ایل پی جی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی، کنٹرول اور قیمتوں کا تعین مرکز کی ذمہ داری ہے اور اسی کے تحت 5 مارچ 2026 کو تیل کمپنیوں کو ہدایت دی گئی کہ ایل پی جی کی فراہمی میں گھریلو استعمال کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز نے 7 مارچ 2026 سے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 852.50 روپے سے بڑھا کر 912.50 روپے کر دی ہے جبکہ تجارتی سلنڈر کی قیمت 1720.50 روپے سے بڑھا کر 1835 روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت نے گیس کی سپلائی میں رکاوٹ نہ آنے اور بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے ضلع سطح پر نگرانی اور موبائل ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایات دی ہیں اور ان ٹیموں نے مختلف مقامات پر کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔

چھگن بھجبل نے کہا کہ گھریلو گیس سلنڈر کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے اس کے لیے ضلع سطح پر خصوصی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ریاستی سطح پر ایک کنٹرول روم بھی فعال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ضلع میں کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ ایل پی جی کی فراہمی سے متعلق شکایات درج کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے چھگن بتایا کہ مکھیہ منتری انّپورنا یوجنا کے تحت ریاست کے مستحق خاندانوں کو سالانہ تین گیس سلنڈر مفت ری فل کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم سے تقریباً 75 لاکھ 81 ہزار 621 مستحق افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن میں پردھان منتری اجولا یوجنا کے 52 لاکھ 17 ہزار 396 اور دیگر اسکیموں کے 23 لاکھ 64 ہزار 225 فائدہ اٹھانے والے شامل ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت ایل پی جی کے متبادل کے طور پر مٹی کے تیل کی تقسیم کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے اور اس بارے میں 11 مارچ 2026 کو ناگپور ہائی کورٹ کی بنچ کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایل پی جی کی سپلائی کا جائزہ لینے کے لیے 12 مارچ کو چیف سکریٹری کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز نے ریاستی حکومت کو بچ جانے والے تجارتی گیس سلنڈروں کی تقسیم کا اختیار بھی دیا ہے، جس کے تحت ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ضرورت کے مطابق ترجیحی شعبوں کو گیس فراہم کی جائے۔ ان ترجیحی شعبوں میں اسپتال، تعلیمی ادارے، شمشان گھاٹ، اولڈ ایج ہوم اور یتیم خانے شامل ہیں جہاں 100 فیصد گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ دفاعی اداروں، سرکاری دفاتر، ریلوے، فضائی خدمات اور پولیس و جیل کے کینٹینوں کو 70 فیصد اور ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے کینٹین، دوا سازی، بیج پراسیسنگ اور ماہی پروری کے شعبوں کو 50 فیصد گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

چھگن بھجبل نے مزید بتایا کہ ریفائنریوں میں ایل پی جی کی پیداوار کو 9 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 11 ہزار میٹرک ٹن تک کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تیل کمپنیوں اور گیس ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ مسلسل اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر سپلائی کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ گیس بکنگ ایپ اور مسڈ کال سروس میں پیش آنے والی تکنیکی مشکلات کو دور کرنے کے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ گیس کی نقل و حمل اور تقسیم کے لیے پولیس تحفظ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ریاستی نگرانی ٹیموں نے جنوری سے 15 مارچ 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 2129 جانچ کارروائیاں کیں جن میں 1208 گیس سلنڈر ضبط کیے گئے جن کی مالیت 33 لاکھ 66 ہزار 411 روپے بتائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں 23 مقدمات درج کیے گئے اور 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیر نے بتایا کہ جنگی صورتحال کے باعث خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یکم فروری سے 11 مارچ 2026 کے درمیان مونگ پھلی کے تیل، سرسوں کے تیل، سویا بین آئل، سن فلاور آئل اور پام آئل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تیل کمپنیوں کے پاس ایل پی جی کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے اور گیس کی تقسیم کا نظام معمول کے مطابق جاری ہے۔ چھگن بھجبل نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گیس کی فراہمی کے بارے میں غیر ضروری تشویش نہ کریں کیونکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading