بی بی سی مانیٹرنگ کی جانب سے ایران میں جاری احتجاج سے جمع کی جانے والی تفصیلات میں سامنے آیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے یکم جنوری کو مختلف صوبوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔
تہران کے مغرب میں ملارد کاؤنٹی میں حکام کے مطابق 30 افراد کو اس الزام میں حراست میں لیا گیا کہ انھوں نے شہریوں کے قانونی حقِ احتجاج کا ’غلط استعمال‘ کیا اور ’امن و امان کی صورتحال‘ کو متاثر کرنے کی کوشش کیا۔‘
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق شمالی البرز صوبے میں حکام نے 14 افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد، پیٹرول بمب تیار کرنے کا ایک جھوٹا کارخانہ چلا رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ ’منظم اور تربیت یافتہ‘ تھا۔
اسی دوران لرستان صوبے میں پراسیکیوٹرز نے کوہداشت میں 20 مبینہ ’شدت پسند مظاہرین‘ کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر ’حکومت کے خلاف نعرے‘ لگائے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا ۔‘
تاہم دوسری جانب ریاستی نشریاتی ادارے نے احتجاج کو یکسر نظرانداز کر رکھا ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو نے گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر اپنے صبح کے بلیٹنز میں نہیں کیا۔ اس کے بجائے معمول کی داخلی خبریں اور پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی چھٹی برسی کی تقریبات کو نمایاں کیا گیا۔ یاد رہے کہ سلیمانی 3 جنوری 2020 کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
صبح کے پروگرامز میں بشمول 30 منٹ کا مرکزی نیوز بلیٹن، چینل آئی آر آئی این این نے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے سلیمانی کی برسی کے حوالے سے ریاستی ریلیوں پر طویل رپورٹیں نشر کیں۔تاہم خبر نامے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک مختصر بیان شامل کیا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’عوام کی آواز اور رائے سنی جانی چاہیے‘، تاہم اس کی مزید وضاحت یا سیاق و سباق پیش نہیں کیا گیا۔