اہم خبریں: یدی یورپا نے منگلور پولیس فائرنگ کے متاثرین کو معاوضہ نہ دینے کا کیا اعلان

یدی یورپا کا پولیس فائرنگ کے متاثرین کو معاوضہ نہ دینے کا اعلان

منگلور: کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے منگلور میں پولیس فائرنگ کے دو ہلاک شدگان کو 10-10 لاکھ روپے کے معاوضہ دینے کے اپنے حکم کو پلٹ دیا۔ یدی یورپا نے بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 19 دسمبر کو منگلور میں ہونے والے تشدد میں پولیس کی گولی لگنے سے دو ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو معاوضہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ دونوں مہلوکین مجرمانہ الزامات کا سامنا کر ر ہے تھے اور ایسے لوگوں کو معاوضہ دیئے جانے کی کوئی روایت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’’معاوضہ کی ادائیگی کا فیصلہ ریاستی حکومت کی طرف سے سی آئی ڈی اور مجسٹریٹ تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد ہی لیا جائے گا‘‘۔

پولیس کی فائرنگ کے متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ کی ادائیگی کے اپنے وعدے پر واپس جانے کے اپنے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’وہ لوگ جو مجرمانہ الزام کا سامنا کر رہے ہوں، انہیں معاوضہ دینے کا التزام نہیں ہے‘‘۔ اس سے پہلے یدی یورپا نے سینئر پولیس افسران کے ساتھ ملاقات کر کے شہر کے موجودہ حالات کی معلومات حاصل کی۔ میٹنگ میں ریاست کے وزیر داخلہ بسوراج بومئی بھی موجود تھے۔


امت شاہ کی ضد کی وجہ سے ہو رہا این پی آر… نواب ملک

این سی پی لیڈر نواب ملک نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کی ضد کی وجہ سے این پی آر ہو رہا ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ ایک کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے لئے 8 ہزار کروڑ برباد کرنے کے لئے ایک پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، نواب ملک نے کہا کہ قریب 95 فیصد لوگوں کے پاس آدھار کارڈ ہے، آدھار سے ہی مردم شماری کرنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ جن کے پاس آدھار نہیں ہے، ان کا آدھار بنانا چاہیے۔

عثمانیہ یونیورسٹی میں ایتھوپیائی طالب علم نے کی خودکشی

حیدرآباد: شہر حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں ایتھوپیائی طالب علم نے خودکشی کرلی۔ہاسٹل میں اس انتہائی اقدام کے لئے اس نے پالی تھیں کور کا استعمال کیا۔پولیس کے مطابق 32سالہ ایتھوپیائی نوجوان خالد مُلیٹا عثمانیہ یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج سے میکانیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کررہا تھا۔وہ تارناکہ میں واقع یونیورسٹی کے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں اپریل 2019سے مقیم تھا۔اس کے دوستوں کے مطابق وہ ذہنی تناو کا شکار ہوگیا تھا اور چند ماہ قبل اپنے ملک بھی گیا تھا۔وہ نومبر میں شہر حیدرآباد واپس ہوا اور اپنی تعلیم جاری رکھا ہوا تھا۔اتوار کو اس کی ملاقات اس کے دوست زردوم سے ہوئی جو ملکاجگری علاقہ میں رہتا ہے۔اس ملاقات کے موقع پر اس نے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس جانا چاہتا ہے۔ایک دن بعد جب خالد کو اس کے دوست نے فون کیا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا جس پراس کافکرمنددوست ہاسٹل پہنچا اور اس کے کمرہ کے دروازہ کو اندر سے بند پایا۔اس نے ہاسٹل کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کردروازہ کو کھولا تو دیکھا کہ خالد واش روم میں مردہ حالت میں پڑا ہوا ہے اور اس کا چہرہ پالی تھین بیگ سے ڈھنکا ہوا ہے۔ پولیس نے اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے عثمانیہ اسپتال منتقل کردیا اور اس سلسلہ میں ایتھوپیائی سفارت خانہ کے عہدیداروں کو اطلاع دے دی گئی۔

راہل گاندھی نے ملک کے باشندوں کو کرسمس کی مبارکباد دی


پڑوسی سے اچھے برتاؤ کیلئے اس کے اچھے ہونے کا انتظار نہ کریں:پوپ فرانسس

ویٹی کن سٹی: عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ دنیا میں جو بھی مسائل ہیں انھیں بہانے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ویٹی کن میں کرسمس سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کہ دوسروں کی مدد کرنے سے پہلے دوسروں سے احترام نہ چاہیں، ہمسایہ و پڑوسی سے اچھے برتاؤ کے لئے اس کے اچھے ہونے کا انتظار نہ کریں۔ مرکزی تقریب سے خطاب میں پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ مت سوچیں کہ انسانیت سے محبت وقت کا ضیاع ہے، ہمت باندھیں، اعتماد مت کھوئیں اور امید کا دامن مت چھوڑیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسروں کے لیےتحفہ بنیں، یہ عمل زندگی کو مقصد دیتا ہے۔

دہلی میں آج سونیا گاندھی سے ملاقات کریں گے ہیمنت سورین

جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے لیڈر ہیمنت سورین آج کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی سے آج دہلی میں ملاقات کریں گے، ہیمنت سورین حلف برداری تقریب کے لئے سونیا گاندھی کو دعوت دیں گے۔


برکینا فاسو میں فوج کی مہم میں 60 مشتبہ دہشت گرد ہلاک

اوگاڈوگو: مغربی افریقی ملک برکینا فاسو کے صوبہ سوم میں فوجی قافلہ پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے مہم چلائی جس میں 60 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ایک سیکورٹی اہلکار نے شناخت خفیہ رکھے جانے کی شرط پر یہ اطلاع دی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق منگل کی صبح کچھ نامعلوم مسلح افراد نے صوبے کے اربدا علاقے میں ایک فوجی قافلہ پر حملہ کر دیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے مہم چلائی جس میں تقریباً 60 دہشت گرد مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق اس حملہ میں برکینا فاسو کی فوج کے چار جوان بھی مارے گئے ہیں۔ برکینا فاسو کے شمالی علاقے میں سیکورٹی کے حالات سنگین ہیں جہاں روزانہ اس قسم کے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ قابل غور ہے کہ سال 2015 سے برکینا فاسو میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں 700 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے جس میں 200 فوجی بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ ہزاروں لوگو ں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینی پڑی ہے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading