جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی پولس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائے گی: وائس چانسلر
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ پولس نے جس طرح کا رویہ جامعہ طلبا کے خلاف اختیار کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے پولس کے خلاف ایف آئی آر درج کرایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پولس نے بغیر اجازت یونیورسٹی کیمپس میں انٹری کی جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ نجمہ اختر نے اس پورے واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ بھی کیا۔
Vice Chancellor of Jamia Millia Islamia, Najma Akhtar: We will file an FIR against the entry of Police in our university campus. You can rebuild the property but you cannot compensate for the things the students went through. We demand a high level inquiry. pic.twitter.com/iaGRaQ7Hrh
— ANI (@ANI) December 16, 2019
احتجاجی مظاہروں کے درمیان جامعہ میں ایگزیکٹیو کونسل کی میٹنگ جاری، وائس چانسلر موجود
جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے طلباء ایک طرف اپنے ساتھیوں پر پولس کی بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں اور دوسری طرف جامعہ کی ایگزیکٹیو کونسل کی میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ میٹنگ میں وائس چانسلر دفتر میں چل رہی ہے جہاں وائس چانسلر نجمہ اختر بھی موجود ہیں۔ اس میٹنگ میں اتوار کے روز طلبا پر ہوئی پولس لاٹھی چارج پر بات چیت چل رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وائس چانسلر نجمہ اختر نے پہلے ہی ایک ویڈیو پیغام میں صاف کر دیا ہے کہ پولس بغیر اجازت یونیورسٹی میں داخل ہوئی اور طلبا کے ساتھ انھوں نے جو برا سلوک کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ طلباء اکیلے نہیں ہیں بلکہ وہ بھی ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
Meeting of Jamia Millia University's Executive Council is underway in Vice Chancellor Najma Akhtar's (file pic) office, over yesterday's incident pic.twitter.com/DZbHCVKDjb
— ANI (@ANI) December 16, 2019
جواہر لال نہرو کے خلاف تبصرہ کرنے والی پایل روہتگی 8 دن کی عدالتی حراست میں
ماڈل اور اداکار پایل روہتگی کو عدالت نے 8 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ گزشتہ دن انھیں پولس نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے کے لیے گرفتار کیا تھا۔ آج راجستھان میں بوندی کی مقامی عدالت میں اس سلسلے میں سماعت ہوئی جہاں عدالت نے انھیں 8 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔
Rajasthan: Model & actress Payal Rohatgi who was arrested by Police over her comment on former Prime Minister Pandit Jawaharlal Nehru, has been sent to eight day judicial custody by a local court in Bundi pic.twitter.com/6bFm2onRvG
— ANI (@ANI) December 16, 2019
لکھنؤ: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں طلبا و پولس کے درمیان تصادم، دونوں طرف سے ہو رہے پتھراؤ
لکھنؤ واقع دارالعلوم ندوۃ العلماء میں طلبا و پولس کے درمیان تصادم کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے خلاف دہلی پولس کی بربریت سے ناراض ندروۃالعلماء کے طالب علم مظاہرہ کر رہے تھے جب ندوۃ العلماء کے دروازے پر مقامی پولس نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ پولس سے ناراض طلباء نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہیلمٹ پہنے پولس والوں نے بھی طلبا پر دروازے کے باہر سے پتھراؤ کیا۔
Lucknow: Protests in Nadwa college against #CitizenshipAmendmentAct. Stone pelting breaks out. pic.twitter.com/UAOOgG1wYF
— ANI UP (@ANINewsUP) December 16, 2019
مہاراشٹر: بی جے پی اراکین اسمبلی ’میں بھی ساورکر‘ لکھی ٹوپی پہن کر اجلاس میں شریک ہونے پہنچے
مہاراشٹر کے بی جے پی اراکین اسمبلی اپنے سر پر ’میں بھی ساورکر‘ لکھی ٹوپی پہن کر اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں شریک ہونے کے لیے پہنچے ہیں۔ انھوں نے بھگوا رنگ کی یہ ٹوپی پہن کر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے اس بیان پر ناراضگی ظاہر کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’میرا نام راہل ساورکر نہیں، راہل گاندھی ہے۔‘‘ قابل ذکر یہ ہے کہ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس بھی ’میں بھی ساورکر‘ لکھی ٹوپی پہن کر پہنچے ہیں۔
Nagpur: BJP MLAs including former Chief Minister Devendra Fadnavis arrive for assembly's winter session wearing 'I am Savarkar' caps https://t.co/wNyohx585c pic.twitter.com/ZAtmdoglDx
— ANI (@ANI) December 16, 2019
جھارکھنڈ اسمبلی انتخاب: سخت سیکورٹی کے درمیان چوتھے مرحلہ کی ووٹنگ جاری
جھارکھنڈ میں چوتھے مرحلے کی 15 اسمبلی سیٹوں کے لئے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان آج صبح سات بجے پولنگ شروع ہو گئی، جو شام پانچ بجے تک چلے گی۔ ریاستی الیکشن دفتر ذرائع نے یہاں بتایا کہ چوتھے مرحلے کے لئے مدھوپور، دیوگھر (ریزرو)، بگودر، جموا ( ریزرو)، گندے، گریڈیہہ، ڈمری، بوکارو، چندركياری ( ریزرو )، سندري، نرسا، دھنباد، جھریا، ٹنڈی اور باگھ مارا میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح سات بجے پولنگ شروع ہو گئی، جو میں شام پانچ بجے تک چلے گی۔ ان پندرہ سیٹوں میں سے بگود، جموا، گریڈیہہ، ڈمري اور ٹنڈی اسمبلی حلقہ میں صبح سات بجے سے شام تین بجے تک رائے دہندگان اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کر سکیں گے۔ وہیں، مدھو پور، دیوگھر، گنڈے، بوکارو، چندن كياري، سندری، نرسا، دھنباد، جھریا اور باگھ مارا سیٹ کے لئے صبح سات سے شام پانچ بجے تک پولنگ ہوگی۔ جن اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ کے اختتام کا وقت شام تین اور پانچ بجے تک ہے، وہاں اس وقت تک موجود تمام ووٹر ووٹ ڈال سکیں گے۔
Fourth phase of polling begins in Jharkhand for 15 Assembly seats
Read @ANI Story |https://t.co/EU7LD9Cy7n pic.twitter.com/UX7FcP4MFY
— ANI Digital (@ani_digital) December 16, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
