اپنی محبوبہ کو منانے کیلئے نوجوان کی بھوک ہڑتال کامیاب رہی

کولکتہ:کم از کم محبت کے معاملے میں بھوک ہڑتال زیادہ کامیاب نہیں ہوتی لیکن یہ ایک نوجوان کے کام آئی ، جس نے سابقہ دوست کے تعلق ختم کرنے پر ا±ن کے گھر کے سامنے بھوک ہڑتال کی اور ا±نہیں شادی کے لیے رضامند کر لیا۔ ریاست مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے آننتا برمن کا آٹھ سال تک اپنی دوست لیپیکا سے اچھا تعلق رہا لیکن اس کے بعدلیپیکا نے تعلق ختم کردیا۔لیپیکا نے آننتا کا فون سننا بند کر دیا، انہیں وٹس ایپ پر بلاک کر دیا اور سوشل میڈیا پر تعلق ختم کر لیا۔آننتا نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ لیپیکا کے گھر والے ا±ن کی شادی کہیں اور کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس پر آننتا نے لیپیکا کو دوبارہ پانے کے لیے انتہائی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دھپگوری میں واقع اپنی دوست کے گھر کے سامنے بھوک ہڑتال کر دی۔آننتا نے ہاتھوں میں بینر اٹھائے ہوئے تھے، جن پر لکھا تھا ”میرے آٹھ سال واپس کرو“۔راہگیروں کو جب احتجاج کی اصل وجہ معلوم ہوئی تو انہوں نے بھی آننتا کی حمایت شروع کر دی۔اس بھوک ہڑتال کی خبر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی۔ لیپیکا کے ہونے والے شوہر بھی پولیس کو لے کر موقع پر پہنچے تاکہ آننتا کو ہٹایا جا سکے ، تاہم آننتا نے وہاں سے ہٹنے اور بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ آننتا کی حالت بگڑنے پر انہیں مقامی ہسپتال لے جایا گیا لیکن انہوں نے کچھ بھی کھانے پینے سے انکار کر دیا۔ تاہم مقامی افراد کی مداخلت کے بعد لیپیکا اور ا±ن کے گھر والے آننتا سے شادی کے لیے مان گئے۔ انہوں نے لیپیکا کی منگنی توڑی اور فوراً ہی آننتا سے لیپیکا کی شادی کر دی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading