اونٹ کے منہ میں انسان

ایم۔ایم۔سلیم۔(آکولہ)

ہم سب نے یہ محاورہ تو یقیناً سنا ہوگا کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ، یہ اس وقت بولا اور استعمال کیا جاتا ہے جب کسی کو کھانے میں اس کی واقعی ضرورت سے بہت کم خوراک دی جائے۔ لیکن اس محاورے کو یہاں ہم نے تھوڑا تبدیل کیا ہے جو ہمیں مجبوراً کرنا پڑا۔ ہم نے جو سرخی لگائی ہے کہ اونٹ کے منہ میں انسان…. جی ہاں آپ نے بالکل صحیح پڑھا… اونٹ کے منہ میں انسان…. یہ سرخی ہمیں اس لئے لگانی پڑی کہ کل ایک دلخراش واقعہ سننے اور پڑھنے کو ملا۔ واقعہ یوں ہے کہ مہاراشٹر کے پربھنی شہر میں اس وقت سید شاہ تراب الحق رحمتہ اللہ علیہ کا عرس چل رہا ہے. اس موقع پر صندل کے دوران اونٹ نے سمیر انعامدار نامی ایک نوجوان کی جان لے لی۔ سمیر اپنے ماں باپ کا اکلوتا سہارا تھا۔ سمیر جس کے ہاتھ میں اونٹ کی رسی تھی، وہ اسے تکلیف دے رہا تھا. مشتعل ہوکر اونٹ نے سمیر انعامدار کا گلا اپنے منہ میں دبا لیا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سمیر انعامدار کی موت کا ذمہ دار کس کو ماننا چاہیے؟ خود سمیر اپنی موت کا ذمہ دار ہے؟ یا اونٹ ہے؟یا پھر اونٹ کا مالک ہے ؟ یا صندل کرنے والے ذمہ دار ہیں ؟ یا پھر ہمارا یہ نظام ؟

اولیاء کرام کا ہمارے نزدیک ایک اہم مقام ہے اور ان کی یوم پیدائش پر اس طرح کی روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ لیکن ابھی کچھ سالوں سے اسے ماڈرن شکل میں پیش کیا جا رہا ہے یا یوں کہیے کہ اس کا نیا ورژن آ گیا ہے کہ اب یہ عرس، عرس نہیں رہا بلکہ مختلف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ تفریح کے ساتھ ساتھ مختلف خرافات یہاں رونما ہو رہی ہیں۔ عرس کے نام پر بڑے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اس میں ہمارے نوجوان شراب پی کر رقص کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ان بے زبان جانوروں کو مار مار کر نچایا جاتا ہے۔ افسوس! اولیاء اللہ کے نام پر یہ گھناؤنا کھیل کب ختم ہوگا؟
پہلے تو گاؤں میں یہ روایت تھی کہ پورے گاؤں سے صرف ایک ہی صندل نکالا جاتا تھا، لیکن اب تو عالم یہ ہے کہ گاؤں کے ہر محلے سے ایک صندل نکالا جاتا ہے اور ہر آپس میں ایک ہوڑ سی لگی رہتی ہے کہ اس محلے کے صندل سے ہمارے محلے کا صندل بڑا ہونا چاہیے۔

نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں لیکن آج یہ سرمایہ لٹتا نظر آ رہا ہے۔ حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال کو نوجوانوں سے بڑی امیدیں تھیں اور انہوں نے اپنی شاعری میں متعدد مرتبہ اس کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کو شاہین سے تعبیر کیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ شاہین پرندہ اپنے اندر مختلف صفات رکھتا ہے۔ لیکن آج یہ نوجوان کبھی ٹک ٹاک پر اوچھی حرکتیں کرتا نظر آتا ہے تو کبھی چائے کی ہوٹلوں میں بیکار باتیں، تو کبھی تھیٹر کی کرسیوں کی زینت بنا دکھائی دیتا ہے۔تو کبھی کھیل کے میدان میں کام میں نہ آنے والے ہنر کی نمائش کرتا پایا جاتا ہے۔

اللہ تعالی کے نیک بندوں کی یاد میں جشن منانے کا یہ کونسا طریقہ ہے کہ بے زبان جانوروں کو کوڑے مارے جائیں اور خود بھی ناچا جائے ۔کہیں ایک بات پڑھنے میں آئی تھی کہ نوجوان اور گھوڑے کبھی جنگ کی شان ہوا کرتے تھے مگر افسوس یہ دونوں آج رقص کی محفل کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ اولیاء اللہ کے نام پر جلوس نکال کر رقص کرنا، اولیاء اللہ سے محبت کا کونسا طریقہ ہے؟ کیا اولیاء اللہ سے محبت کا اظہار اس طرح کیا جاتا ہے؟

قرآن مجید میں ارشاد ہے

کہ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، لیکن افسوس آج ہمارے ایک نوجوان بھائی کی موت اونٹ کی رسی کو پکڑتے ہوئے چلی گئی! ذرا سوچیئے ہم ساتھ کیا لے کر جارہے ہیں۔ سمیر کی ناگہانی موت ہمارے لئے عبرت ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading