اورنگ آباد:(جمیل شیخ):کرائیسٹ چرچ نیوزی لینڈ کی ۲مساجدمیں نماز جمعہ سے قبل ایک آسٹریلیائی نژاد ۸۲سالہ برٹینٹ نے مشین گن سے نماز کو آئے ہوئے نہتے مسلمانوںپر حملہ کردیا۔اس کے نتیجے میں 49 مسلمان جاں بحق ہوئے اور 50 سے زائد شدید زخمی بتلائے جاتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی حکومت نے اسے منصوبہ بند دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔جیسے ہی یہ خبر میڈیا کے ذریعے پہنچی ،شب میں مسلم نمائندہ کونسل کی مجلس عاملہ کی ہنگامی نشست صدرکونسل ضیاءالدین صدیقی کی صدارت میں منعقد کی گئی۔ جس میں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا گیا۔ شہدا کے درجات میں بلندی اور متعلقین کے لےے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔اسی کے ساتھ ہی اس پر بھی تبادلہ خیال ہوا کہ ایسے واقعات اسلام فوبیا اورمذہبی نفرت کے عکاس ہوتے ہیں۔مغربی سماج جس طرح اسلام کی بڑھتی ہوئی دعوت وقوت سے خوفزدہ ہے اس کا نتیجہ ایسی اوچھی حرکات کا علمبردار ہورہاہے۔کیا اسے کرسچن دہشت گردی قراردیا جاسکتاہے؟
کسی مسلمان کی حرکت سے اسلام دہشت گرد بن جاتاہے لیکن کسی عیسائی کی حرکت کرسچن دہشت گردی نہیں کہلاتی ۔پانسرے اور گوری لنکیش کے قاتل دہشت گرد نہیں ہے ۔صرف isisکی سائیڈ کی سرفینگ انتظامیہ کی نظر میں مسلمانوں کو دہشت گردبنادیتی ہے۔تھانے ،نانڈیڑ، مالیگاو¿ں بم بلاسٹ کرنے والی سناتن سنستھا خلاف قانون قرارنہیں دی جاتی بلکہ اپنے حقوق کے لےے لڑنے والی طلبہ تنظیم خلاف قانون قراردی جاتی ہے۔