اسرائیل کی قید سے 39 فلسطینی قیدی رہا: ’حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہمارے لیے سرپرائز تھا‘

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو چار روزہ جنگ میں وقفے کے دوسرے روز اس کی جانب سے 42 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے حماس مزید 14 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گا۔

قطر کی ثالثی میں اس عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ تین ایک کے تناسب سے کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا تھا کہ جمعے کو غزہ کی پٹی میں حماس کی قید سے 24 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے 39 فلسطینیوں کو مغربی کنارے کے قریب بيتونيا چیک پوسٹ پر رہا کیا جن میں 24 خواتین اور 15 کمسن لڑکے شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے مغویوں کی رہائی کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ہم نے اپنے اوّلین یرغمالیوں کی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے جن میں مائیں بچے اور دیگر خواتین شامل ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی ذات میں مکمل دنیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنے تمام یرغمالیوں کی واپسی کے لیے پرعزم ہیں۔‘

گذشتہ روز رہائی پانے والی 24 فلسطینی خواتین میں سے ایک مرح بكير نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ معاہدہ کئی لوگوں کی ہلاکتوں کے بعد ہوا جس سے ہمیں افسوس اور دکھ پہنچا ہے۔‘ یروشلم میں اپنی والدہ کے گھر آمد پر کہا کہ ’معاہدے کی خبر (ہمارے لیے) سرپرائز تھی۔‘

انھیں 16 سال کی عمر میں 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں بارڈر پولیس افسر پر چاقو سے حملہ کرنے کے الزام میں ساڑھے آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔حماس کی قید سے رہائی پانے والوں میں اسرائیلی شہری یونی اشر کی اہلیہ ڈورون اشر اور ان کی دو بیٹیاں بھی شامل ہیں جن کی عمریں دو اور چار سال ہیں۔

یونی اشر نے بی بی سی کو بتایا، ’میں اپنے خاندان کو صدمے اور اس ذہنی اذیّت سے نکال کر دوبارہ زندگی کی جانب واپس لانے کے لیے پُرعزم ہوں۔ میں اپنے پیاروں کی رہائی کا اس وقت تک جشن نہیں مناؤں گا جب تک کہ آخری مغوی کی واپسی بھی نہ ہو جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مغوی کے اہل خانہ پوسٹر یا نعرے نہیں ہیں۔ وہ حقیقی لوگ ہیں، اور مغوی کے اہل خانہ آج سے میرا نیا خاندان ہیں، اور میں اس بات کو یقینی بناؤں گا اور سب کچھ کروں گا کہ مغوی کا آخری گھر پہنچ جائے۔‘

اسرائیلی شہری ایتے راوی کے خاندان کے تین افراد کو بھی حماس کی قید سے رہائی ملی ہے تاہم ان کے 78 سالہ کزن ابراہم تاحال قید میں ہیں۔

اپنے خاندان کے تین افراد کی رہائی کے بعد وہ کہتے ہیں’خوش رہنے کی طرف یہ ایک قدم ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا ’ تاہم ہم پوری طرح خوش نہیں ہو سکتے۔ یہ اب بھی ایک بہت ہی خوفناک حقیقت ہے جس میں ہم موجود ہیں۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading