ممبئی،5جنوری(یواین آئی)مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے کی شمال وسطی ممبئی کے باندرہ مشرق کلا نگر میں واقع رہائش گاہ ’ماتو شری ‘میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک کسان اور اس کی کمسن بیٹی کو حراست میںلینے کے بعد پوچھ تاچھ کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔انہوںنے وزیراعلیٰ کی نجی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے حفاظت انتظام کی خلاف ورزی کی ہے ،ذرائع کے مطابق واقعہ آج صبح سویرے پیش آیا ۔
بتایاجاتا ہے کہ کسان کی شناخت دیشمکھ کے طورپر ہوئی ہے اور وہ رائے گڑھ ضلع کے پنویل سے ممبئی آیا تھا جوکہ یہاں سے ۵۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس کے ہاتھ میں کاغذات کی ایک فائل تھی اور اس نے ماتوشری میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی تھی۔اس کے ہمراہ 8سالہ بیٹی بھی تھی ،پولیس نے اس سخت حفاظتی انتظام والے علاقے میں داخل ہونے سے روک لیا ڈجس کے بعد دیشمکھ نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کردی کیونکہ وہ وزیراعلیٰ سے ملاقات کا خواہاںتھااور مطالبہ کرنے لگا کہ پولیس اس کی ادھوسے ملاقات کرائے یا گولی ماردے۔
اسے پولیس وین میں بیٹھا کر پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ۔
ماتوشری میں کسان کوحرسات میں لینے کی اطلاع موصول ہونے پر ادھوٹھاکرے اور ومیرماحولیات آدیتیہ ٹھاکرے نے اسے رہا کرنے کی ہدایت جاری کی ۔اور اس کی شکایتوں کو پوچھنے کے لیے بھی کہا گیا۔دیشمکھ نے صحافیوں سے کہا کہ وہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور آٹھ سال شے پریشان ہے ،جبکہ وہ وزیراعلیٰ سے مل کر تفصیل سے مطلع کرنا چاہتا تھا۔
ذرائع کے مطابق ادھوٹھاکرے اپنی رہائش گاہ ماتوشری سے چند ہفتے میں سرکاری رہائش گاہ ’ورشا‘ میں منتقل ہوجائیں گے۔
ماتوشری میں کسان کوحرسات میں لینے کی اطلاع موصول ہونے پر ادھوٹھاکرے اور ومیرماحولیات آدیتیہ ٹھاکرے نے اسے رہا کرنے کی ہدایت جاری کی ۔اور اس کی شکایتوں کو پوچھنے کے لیے بھی کہا گیا۔دیشمکھ نے صحافیوں سے کہا کہ وہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور آٹھ سال شے پریشان ہے ،جبکہ وہ وزیراعلیٰ سے مل کر تفصیل سے مطلع کرنا چاہتا تھا۔
ذرائع کے مطابق ادھوٹھاکرے اپنی رہائش گاہ ماتوشری سے چند ہفتے میں سرکاری رہائش گاہ ’ورشا‘ میں منتقل ہوجائیں گے۔