آنکھ بڑا نازک عضو ہے آنکھوں کی بیماریوں کا گھریلو علاج بعض صورتوں میں خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے آنکھوں میں اندھا دھند ہر اچھی بری چیز ڈالے جانا بہت خطرناک ہے ہم یہاں صرف آنکھوں کی چنداہم بیماریوں کا ذکر کریں گے جب کا گھریلو علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور اس سے آنکھوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال نہیں ہوتا دیگر خرابیوںکے لیے آپ کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
علاج:اگر بچہ کمزور ہو تو اسے مناسب غذا کھلا کر اس کی صحت بہتر بنائیں جب گوہا نجنی سخت درد کررہی ہو تو گرم کپڑے اس کی ٹکور کرنے سے اس میں جلدی پیپ پڑتی ہے اور اس کے پھٹ جانے کے بعد درد ٹھیک ہوجاتا ہے اگر پھٹ پڑنے کے بعد بھی گوہا نجنی نہ پھٹے تو اس میں اگی ہوئی ایک پلک بال کھینچ دیجیے پیپ باہر آنے لگتی ہے اگر گوہا نجنی پھر بھی نہ پھٹے اور سخت درد کررہی ہو تو کسی ڈاکٹر سے اسے چیرا دلوا لیجیے گوہا نجنی میں درد کے علاوہ خارش بھی ہوتی ہے لیکن بچوں کو گوہا نجنی کھجانے نہ دیجیے اس پر دباﺅ پڑنے سے جراثیم اردگرد کے صحت مند حصے میں گھس جائیں گے بعض لوگ گوہا نجنی کو انگلیوں میں دبا کر اسے پھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بھی مریض کے لیے خطرناک ہے اور جراثیم کے لیے مفید اگر کئی گوہا نجنیاں نکل آئی ہوں یا یہ بار بار نکلتی ہوں تو پنسلین کے چند ٹیکے لگوا لینا مفیدرہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جسمانی کمزوری کا انسداد بھی ضروری ہے۔آنکھوں کی الرجی:الرجی بھی آنکھوں کی سوزش کا اہم سبب ہے سبب سوزش الرجی کی وجہ سے ہو تو اس کا پتا لگانا مشکل نہیں ہوتا آنکھوں میں اچانک جلن اور سوزش ہوتی ہے اور بہت زیادہ پانی آتا ہے یہ حالت زیادہ دیر تک نہیں رہتی اور عموماً الرجی کا سبب دور ہوجانے کے بعد سوزش جاتی رہتی ہے اگر آنکھ مسلسل الرجی کا شکار رہے تو جراثیم کو اس پر قابض ہونے کا موقع مل جاتا ہے اس لیے اس کا فوری علاج ضروری ہے آنکھ کی الرجی کے ساتھ عموماً ناک کی الرجی زکام بھی ہوتی ہے۔