آف !یہ ہندوانہ ناموں کا چلن، کدھر کو جارہے ہیں ہم ؟

ماہ رمضان المبارک کا رحمتوں بھرا مہینہ اپنی رحمتیں لٹا رہا ہے ساری کائنات اس سے فیض یاب ہو رہی ہیں اس ماہ مبارک میں کۓ جانے والے کام خیر و برکت کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں اس ماہ مبارک میں ملی دولت نعمت خاص میں شمار ہوتی ہے اور حسن اتفاق سے کسی کے یہاں اس ماہ مبارک میں بچے کی تولید ہو جاۓ تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی وہ والدین و خاندان اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کی اللہ نے اس مبارک مہینہ میں ہمارے یہاں اولاد عطا کی۔ اس کے لۓ خصوصی اہتمام کرتے اور اس خصوصی کام کی ابتداء ہوتی اس کے نام رکھنے سے کیونکہ نام کے معنی ہوتے ہیں اس کی صفت و خوبیاں ہوتی ہیں جو بچے کے دل و دماغ پر اثرات مرتب کرتی ہے نام کی ایک تاثر ہوتی ہے اسی لیے لوگ اپنے بچوں کے نام اسلامی طرز کے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں صحابہ کرام کے نام رسولوں کے نام پیغمبروں کے نام شہداء کربلا کے نام ان کے معنی مفہوم پس منظر تلاش کرتے درجنوں شناسائیوں،ماہرین سے پوچھ تاچھ کر کے ایک نام طۓ ھوتا خاندان میں کوئی اعلی تعلیم یافتہ نہ ہوتا تو علماءکرام و آئمہ مساجد کی بھی مدد لی جاتی ہے مقصد بس یہی ہوتا ہے کہ ہمارے بچے کا نام صحیح رکھا جائے اس میں صحیح صفات مرتب ہو۔ اس نام کے پکارنے سے پکارنے والے کو بھی ثواب ملے ایسا کوئی صفاتی نام تلاش کیا جاتا تھا

آج کل سوشل میڈیا وہاٹس ایپ، فیس بک کیا ہر طرف دیکھنے پڑھنے کو مل رہا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کے نام چھترپتی راجہ سے متاثر ہو کر تو کہی وزیر اعظم نریندر مودی سے متاثر ہو کر اپنے بچوں کے نام اسلامی دائرہ سے باہر کے نام رکھتے دکھائی دے رہے ہیں ان کے تعلق سے ملی اطلاع کے مطابق یہ کہ بلڈانہ کے شیخ ابراہیم نے اپنے بیٹے کا نام چھترپتی شیواجی مہاراج کی قومی یکجہتی کی تعلیم سے متاثر ہو کر "سنبھاجی” رکھا اس کا کہنا ہے کہ اس سے قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا

یہ ان کی سوچ ہے آئین نے انہیں بھی آزادی دی ہے وہ بھی اپنی مرضی اور اختیار سے بچے کا نام رکھنے کے لئے آزاد ہے۔ مگر یہ تو وقت بتائے گا کہ تب کیا ہوگا؟ ہماری گناہ گار آنکھوں نے یہ بھی منظر دیکھے ہیں کہ وہ مسلم بچے جو دیگر ذریعے تعلیم کی اسکولوں میں اور بالخصوص مراٹھی ذریعہ تعلیم کے اسکولوں کے بچے درمیان میں لٹک جاتے ہیں مراٹھی والے کہتے تم اردو قبیل کے ہو اور اردو والے کہتے تم ادھر کا پروڈکشن ہو بے چارہ دونوں میں پس کر رہ جاتا۔ جب یہ مسلم بچہ ہندو نام لۓ سماج میں پیش رفت کرے گا تو وہاں کیا منظر ہوگا ؟ اسے نہ مسلم پسند کرے گے اور نہ ہندو قبول کرے گے ۔

اسی کے ساتھ دوسرا واقعہ گونڈا کی خاتون کا ہے جس نے الیکشن کے نتائج کے دن ایک بچے کو جنم دیا اس کے شوہر مشتاق ماشااللہ اسلامی ملک دوبئ میں رہتے ہیں ان کی شریک حیات وزیر اعظم نریندر مودی کے کاموں سے اتنی متاثر ہوئی کہ انہوں نے اہل خانہ، رشتہ دار، دوست احباب کی ایک نہ مانی اور لخت جگر نور نظر کا نام نامی اسم گرامی نریندررمودی رجسٹر کروا یا شوہر اسلامی ملک بیٹھے بیٹھے مثبت میں سر ہلا کر قبول کر رہا ہے ۔ کیا معاشرہ کی یہ پیش رفت صحیح سمت میں رواں دواں ہے ؟ یہ بھلے ہی آج چھوٹی سی بات لگے مگر کل اس کے اثرات دیگر شعبوں میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں لہذا ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم معاشرے کو صحت مند ماحول دے انہی اپنے اسلاف کے حقیقی کارناموں سے متعارف کروائے کہ وہ اوروں کو اپنا آئڈیل نہ سمجھے اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے یہاں دنیا کی عظیم شخصیات ہیں بس ضروری ہیں انہیں جاننے کی۔ اور یہ کام ناموں کی نسبت سے فورا ہو جاتاہے کوئی نیا نام سنائی دیا تو فطری طور پر ہم اس کے معنی مفہوم اصل کو تلاش کرنے لگ جاتے ایک نام کے معنی سے ہمیں کئ تاریخی معلومات حاصل ہوجاتی۔

آج لوگ شوقیہ طور پر اسلامی نام ترک کر کے غیر اسلامی ناموں کی طرف مرغوب ہو رہے ہیں پتہ نہیں کسے خوش کرنا چاہ رہے ہیں مگر ہمیں صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے والا ہی عمل کرنا چاہیے۔ اگر یہ سلسلہ چل پڑا اور رائج ہو گیا تو ہم اپنے مستقبل کی نسلوں کو ہماری شخصیات کا تعارف و جانکاری دے سکے گے؟

تجزیہ خبر عقیل خان بیاولی

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading