آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین جہازوں کو ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک تھائی کارگو جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم وہ ’محفوظ‘ ہیں۔
تھائی لینڈ کی بحریہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے تھائی مال بردار جہاز پر حملے کے بعد اسے فوری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
رائل تھائی نیوی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز پر عملے کے 23 ارکان سوار تھے۔
تھائی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کی بحریہ نے عملے کے 20 ارکان کو بچا لیا ہے جبکہ باقی افراد کو نکالنے کا عمل جاری ہے۔

رائل تھائی نیوی کا کہنا ہے کہ حکام کو تقریباً 11:00 بجے واقعے کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس ملک کے وقت کا حوالہ دے رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ جہاز پر حملہ متحدہ عرب امارات کی خلیفہ بندرگاہ سے روانہ ہونے کے کئی گھنٹے بعد ہوا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کی وجوہات کے متعلق ابھی تفتیش جاری ہے۔
تنازع کے آغاز سے اب تک 13 جہازوں پر حملہ ہو چکا ہے: میری ٹائم مانیٹر برطانیہ
برطانیہ کے میری ٹائم مانیٹر ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ انھیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تنازع کے آغاز سے لے کر اب تک 13 جہازوں پر حملہ ہو چکا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ انھیں مشکوک سرگرمیوں کی چار رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں اور اس کے ارد گرد کام کرنے والے بحری جہازوں کو متاثر کرنے والے واقعات کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے۔
اس سے قبل برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے خبر دی تھی کہ تین تجارتی جہازوں سے ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ ٹکرانے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے ایک کارگو جہاز، جو کہ عمان کے شمال میں موجود تھا، کو پرجیکٹائل لگنے کے بعد اس کے عملے کو بحفاظت طریقے سے نکال لیا گیا تھا