اللہ تعالی نے انسان کو بے پایاں نعمتوں سے نوازا جنہیں شمار کرنا انسان کی گرفت سے باہر ہے،(وان تعدوا نعمة الله لا تحصوها) اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے،باری تعالی نے ہمیں صحت وتندرستی سے نوازا، قوت وطاقت دی، آنکھ کو بینائی عطا کی، کان کو سننے کی طاقت بخشی، زبان کو قوت گویائی سے نوازا،غوروفکر کے لئے عقل وخرد جیسی نعمت سے بہرہ ورکیا ۔
لیکن ان نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت جو اللہ تعالی نے انسانوں کو بخشی ہے وہ "وقت ” ہے اور یہ نعمت ایسی عام رکھی جو کسی بندے کے ساتہ خاص نہیں،بلکہ یہ انعام جس طرح مسلمانوں کو ملاہے اسی طرح کافروں کو بھی، امیر اس دولت سے نوازے گئے تو غریب بھی،بادشاہ کو یہ نعمت حاصل ہوئی تو رعایا کو بھی ،لیکن کامیابی انہیں کے ہاتھ لگتی ہے جو اس کا صحیح استعمال کرتے ہیں،اور اس کو عمدہ مصرف میں لگاتے ہیں۔
پر افسوس صد افسوس! آج ہم وقت کی قدر و قیمت سے بالکل نا آشنا ہیں،اس کو لایعنی کاموں اور ان امور میں خرچ کرتے ہیں جن میں نہ دین کی فلاح وکامرانی پنہاں ہے اور نہ آخرت کی،آج اس نعمت کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ نہ لگاپانا مستقبل کو تاریکیوں اور ناکامیوں میں ڈھکیل دینے کے مرادف ہوگا۔
عصر حاضر کا مسلمان جس بے دردی سے وقت کو برباد کرتا نظر آرہاہے اتنا زیادہ وقت کی بربادی کسی اور قوم میں دیکھنے میں نہیں آتی،نوجوان شب وروز کے بیشتر اوقات سوشل میڈیا واٹس ایپ فیس بک وغیرہ پر برباد کرتے نظر آرہے ہیں، اور انہیں اس کا احساس تک نہیں ہے ،لیکن جب یہ نعمت چھن جائے گی تو اس وقت کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا، اس لئے ضرورت ہے کہ وقت کی حفاظت کریں، تاکہ کل رسوائی اور شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے-
تاریخ گواہ ہے! کہ کامیابی انہیں کے قدموں کو چومتی ہے جو اپنے اوقات کو کار آمد بناتے ہیں، گزری ہوئی تمام انقلاب آفریں شخصیات کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے اپنے اوقات کی قدر کی، اور ان کا صحیح استعمال کیا ،کئی دہائیاں اور صدیاں گزرنے کے باوجود بہی ان کے نام آج بھی آفتاب وماہتاب کی طرح درخشاں ہیں-
دنیوی زندگی میں کامیابی انہی کو حاصل ہوتی ہے جو محنت و جانفشانی کرکے وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں ،وقت کی قدردانی کامیابی کے اعلی سے اعلی زینے طے کراتی ہے اور ترقی کے دروازے ان کے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں جناب نبئ کریم علیہ السلام نے بھی مسلمانوں کو وقت کی قدردانی کی تاکید اور اس کے برباد کرنے سے منع فرمایا ہے: "من حسن اسلام المرء تركه مالا يعنيه”(آدمی کے اسلامی کی خوبی یہی ہے کہ وہ لا یعنی امور کو ترک کردے) لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اوقات کی قدردانی کریں، اور اپنے خالی اوقات کو مستقبل ساز امور اور یاد الہی وذکر خداوندی سے معمور کریں تاکہ کل قیامت کے دن ہمیں اپنے گزرے ہوئے اوقات پر حسرت وافسوس کاسامنانہ کرنا پڑے،جیسا کہ کفارومشرکین قیامت کے دن اپنے ضائع کردہ اوقات پر کف افسوس ملیں گے ،اور یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں لوٹنے کا موقع ملے تو اپنے اوقات کو یاد الہی اور ذکر خداوندی سے معمور کرتے، "ياليتنا نرد ولا نكذب بايات ربنا ونكون من المؤمنين” لیکن ان کی یہ آرزو حسرت ہی رہ جائے گی اور ان کو اپنے کئے کی سزا بہگتنی پڑے گی-
وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بہی لگایا جاسکتاہے کہ اللہ تعالی نے قران کریم میں جابجا وقت کی قسم کہائی ہے "والفجر وليال عشر” (قسم ہے صبح کی اور دس راتوں کی) اسی طرح دوسرے مقام پرارشاد فرمایا”والليل اذا يغشى والنهار اذا تجلى”(قسم ہے رات کی جب وہ چہاجائے،اوردن کی جب وہ روشن ہوجائے) ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:”والضحى والليل اذا سجى”(قسم ہے چاشت کے وقت کی، اور رات کی جب وہ چہاجائے)ان تمام قسموں سے یہ بات مترشح ہورہی ہے کہ وقت ایک عظیم نعمت خداوندی ہے اسی لئےہمیں چاہئے کہ اپنا محاسبہ کریں کہ ہمارے اوقات کن امور میں صرف ہورہے ہیں، اگر لغویات میں ضائع ہورہے ہیں تو ہمیں انجام بد کے لئے مستعد رہنا چاہئے ، ایک حدیث میں نبئ کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو مرض سے پہلے، دولت کو فقر سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے(مشکوة)
جوانی صحت دولت اور خالی اوقات یہ ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو باربار نہیں ملتی ہیں، اگر ہم اس کا صحیح استعمال کرینگے تو کل اس کے اچہے نتائج ہمارے سامنے ہوں گے، اور اگر ہم نے ان کا غلط استعمال کیا تو پہر ہمیں برے نتائج کے لئے تیار رہنا چاہیئے، اللہ تعالی ہمیں اوقات کی قدردانی کرنے والا اور مفید کاموں میں صرف کرنے والا بنائے ……..آمین…..