مہاراشٹر پولیس کو بدنام کرنے کی بی جے پی لیڈروں کی سازش: مہیش تپاسے بی جے پی کے ذریعے ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیداکرنے کی مسلسل کوشش

ممبئی: ممبئی میں یعقوب میمن اور امراؤتی میں مبینہ لوجہاد کا معاملہ کھڑا کرکے بی جے پی لیڈروں کے ذریعے مہاراشٹرپولیس کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے جبکہ اس کے ذریعہ ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ یہ سنگین الزام آج یہاں این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے عائد کیا ہے۔

تپاسے نے کہا ہے کہ ایم پی نونیت رانا نے کل امراؤتی پولیس نے تکرار کی تھی کہ متاثرہ لڑکی کو قید میں رکھا گیا ہے لیکن اس لڑکی نے خود ہی پولیس کے سامنے یہ بیان دیا ہے کہ وہ غصے میں اپنے گھر سے فرار ہوگئی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مبینہ لوجہاد کے معاملے سے کس کو فائدہ پہنچنے والا ہے؟ دوسری جانب بدھ کو بی جے پی کے ایم ایل اے رام کدم نے ایک ٹوویٹ کرتے ہوئے یعقوب میمن کی قبر کا معاملہ اٹھاکر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس میں بھی رام کدم کے ذریعے پرانی تصویر کے استعمال کا معاملہ سامنے آیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں معاملات کے ذریعے ریاست میں فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ان کی باریک بینی سے تفتیش کی جانی چاہئے۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد ممبئی پولیس کی کارروائی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، دوسری جانب پالگھر میں ایک سادھو کے قتل کے معاملے میں پولیس پر انگلی اٹھائی گئی۔ اس دوران رانا جوڑے نے ہنومان چالیسہ پڑھنے پر اصرار کیا اور پولیس کو دھمکی دی۔ اب ایم پی نونیت رانا نے امراؤتی پولیس سے جھگڑا کرکے سرکاری کام میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کے وزیرداخلہ امراؤتی پولیس کو نونیت رانا کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیں گے؟یعقوب میمن اور مبینہ لو جہاد کو موضوع بنا کر ریاست کے ماحول کوپراگندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تپاسے نے سوال کیا ہے کہ مذہبی منافرت پیدا کرنے والے ایسے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حوصلہ کیا وزیرداخلہ دیوندرفڈنویس دکھائیں گے؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading