والمِیک کراڈ پر ای ڈی کی کارروائی کیوں نہیں؟، سپریا سولے کا سوال

ممبئی: سنتوش دیشمکھ قتل کیس میں ماسٹر مائنڈ کہے جانے والے والمِیک کراڈ کو پہلے ہی منی لانڈرنگ کیس میں ای ڈی کی نوٹس جاری ہو چکی ہے، لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بے خوف ہے۔ اگر وقت پر ای ڈی کارروائی کرتی تو سرپنچ کے قتل کیس کا واقعہ ہی نہیں ہوتا۔ یہ بات این سی پی-ایس پی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی ہیں۔

سپریا سولے نے کہا کہ پچھلے ایک ماہ سے بیڑ اور پربھنی کے واقعات پر ہم لوگ بات کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس تعلق سے سب سے پہلی آواز بجرنگ سونونے نے اٹھائی تھی، اور جیتندر اوہاڈ، سندیپ شر ساگر نے بھی اس معاملے کو مسلسل اسمبلی میں اٹھایا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب تک والمِیک کراڈ پر ای ڈی کی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ انہوں نے مزید کہا کہ بیڑ قتل کیس کے ملزمان کو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں بجرنگ سونونے نے اس کا مطالبہ کیا، سندیپ شر ساگر اور جیتندر اوہاڈ نے بھی ایوان میں یہ معاملہ پیش کیا۔ سب کا یہی کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملنا چاہیے۔

سپریا سولے نے کہا کہ پی ایم ایل اے قانون کے تحت والمِیک کراڈ کے خلاف نوٹس جاری ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب والمِیک کراڈ کو جبراً وصولی کیس میں گرفتار کیا گیا اور ایف آئی آر درج کی گئی، تو پھر پی ایم ایل اے قانون کیوں لاگو نہیں کیا گیا؟ 11 دسمبر کو درج ایف آئی آر میں والمِیک کراڈ کا نام شامل ہے اور ای ڈی نے نوٹس بھیجی ہے۔ اس کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟

سپریا سولے نے کہا کہ لاڈلی بہن یوجنا کے پرلی تعلقہ صدر والمِیک کراڈ کے خلاف جبراً وصولی کا کیس درج ہے۔ پھر ایسے شخص کو اتنے اہم عہدے پر کیوں بٹھایا گیا؟ انیل دیشمکھ، سنجے راؤت اور نواب ملک کے لیے ایک قانون اور والمِیک کراڈ کے لیے دوسرا قانون کیوں؟ سپریا سولے نے مزید کہا کہ اینٹی کرپشن ایکٹ کے تحت پی ایم ایل اے قانون کو کالا دھن واپس لانے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن یہ قانون جبراً وصولی کے کیسز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ والمِیک کراڈ کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

سپریا سولے نے کہا کہ میں اور رکن پارلیمنٹ بجرنگ سونونے وزیرِ خزانہ کو خط لکھ کر ای ڈی کی جانب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ اگر وقت پر کارروائی کی گئی ہوتی، تو سنتوش دیشمکھ کی جان بچ سکتی تھی۔ سپریا سولے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انجلی دمانیا نے اس معاملے میں بعض سوالات اٹھائے ہیں، لیکن ابھی تک ان کے جواب نہیں ملے ہیں۔