ممبئی: این سی پی کے سینئر ترجمان آنند پرانجپے نے مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں 128 نشستوں پر قسمت آزمائی، مگر ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی اور محض 1.55 فیصد ووٹ حاصل کر سکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم این ایس اس قدر زوال پذیر ہو چکی ہے کہ اس کی انتخابی علامت، ریلوے انجن، بھی خطرے میں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرانجپے نے کہا کہ راج ٹھاکرے کو یہ سوچنے کے بجائے کہ این سی پی نے مہایوتی اتحاد میں 41 سیٹیں کیسے جیتیں، اپنی پارٹی کے مستقبل پر غور کرنا چاہیے۔ انہیں اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ وہ اپنی پارٹی کو کیسے بچائیں، کارکنوں کو جوڑے رکھیں اور مہاراشٹر کے عوام کا اعتماد کیسے حاصل کریں۔ واضح رہے کہ راج ٹھاکرے نے اپنی ورلی ریلی میں این سی پی کی انتخابی کامیابی پر سوالات اٹھائے تھے۔
پرانجپے نے مزید کہا کہ راج ٹھاکرے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم شخصیت ہیں، لیکن عوام نے ان کے بدلتے موقف کو ہمیشہ محسوس کیا ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے کانگریس-این سی پی کے حق میں مہم چلائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کھڑے ہوئے، جبکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں وہ مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کے حامی بن گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم این ایس اپنی سیاسی سمت کو لے کر ہمیشہ تذبذب کا شکار رہی ہے۔ این سی پی کو لوک سبھا انتخابات میں توقع کے مطابق کامیابی نہ ملی ہو، مگر اجیت پوار کی قیادت میں پارٹی نے عوام سے دوبارہ رابطہ قائم کیا، ان کے مسائل سمجھے اور انہیں حل کرنے پر توجہ دی۔ دوسری جانب ایم این ایس ہر گزرتے موسم کے ساتھ اپنی پالیسی بدلتی رہی، جس کی وجہ سے عوام نے کبھی اس پر بھروسہ نہیں کیا۔
پرانجپے نے واضح کیا کہ 2009 میں ایم این ایس کے 13 ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے، مگر اس کے بعد سے پارٹی کا اسمبلی میں وجود کم ہوتا چلا گیا۔ 2014 میں صرف ایک ایم ایل اے جیتا، 2019 میں بھی یہی صورتحال رہی، اور اب 2024 میں پارٹی کا اسمبلی میں کوئی نمائندہ نہیں ہے۔ یہ صورتحال راج ٹھاکرے اور ان کی پارٹی دونوں کے لیے گہرے غور و فکر کا لمحہ ہے۔
