ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں پوری قوت، تیاری اور صلاحیت کے ساتھ امیدوار میدان میں اتارے گی اور پارٹی کی تیسری فہرست میں شامل تمام امیدوار مضبوط اور باصلاحیت ہوں گے۔ یہ بات نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سولا پور، رائے گڑھ ضلع کے پنویل، کولہاپور اور ناسک سمیت مختلف علاقوں میں مہایوتی کے طور پر انتخابات لڑے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور شیو سینا کے درمیان اتحاد ہے، جبکہ کچھ جگہوں پر تینوں اتحادی جماعتیں مل کر انتخابی مقابلہ کر رہی ہیں۔ ہر علاقے کی سیاسی صورتحال مختلف ہے اور مہایوتی کے سینئر قائدین اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ چونکہ یہ انتخابات طویل عرصے بعد ہو رہے ہیں، اس لیے ہر سیاسی جماعت کے پاس امیدوار بننے کے خواہشمند افراد کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اتحاد کے عمل میں نشستوں کی تقسیم کے دوران اتحادی جماعتوں کو بعض نشستیں چھوڑنی پڑتی ہیں، اسی پس منظر میں بعض جگہوں پر اتحاد نہ ہونے کے امکانات پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ مہاراشٹر میں مہایوتی کو بڑی کامیابی حاصل ہوگی۔
سنیل تٹکرے نے واضح کیا کہ ممبئی ایک کثیر لسانی اور کثیر مذہبی شہر ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے لیے سیاسی پارٹیوں کی امیدوار فہرستوں پر نظر ڈالی جائے تو اس میں تمام مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں۔ ممبئی میں عیسائی برادری، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کی تحریک سے وابستہ طبقہ، ہندی بولنے والے اور شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے شہری بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایسے میں ان طبقات سے امیدواروں کا انتخاب کرنا نہ صرف فطری بلکہ جمہوری اقدار کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاص سماج کی نمائندگی کو غلط قرار دینا دراصل ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے دیے ہوئے آئینی بنیادی اصولوں پر سوال اٹھانے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی تنظیمی طاقت کا ایک مضبوط ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے پارٹی کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر انہی علاقوں میں پارٹی کی نشستیں ہوتی ہیں جہاں چھ سے سات کونسلر منتخب ہوتے ہیں۔ اگر اس بنیاد پر یہ الزام لگایا جائے کہ پارٹی کسی مخصوص سماج کو ترجیح دے رہی ہے تو یہ الزام بے بنیاد اور غیر ضروری ہے۔ سنیل تٹکرے کے مطابق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں متوازن نمائندگی، مضبوط امیدواروں اور زمینی سطح کی تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی، اور شہر کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی حکمتِ عملی پر کاربند رہے گی۔
شیوسینا (یو بی ٹی) اور کانگریس کو سخت جھٹکا
رائے گڑھ شیوسینا یو بی ٹی کے اہم لیڈر کشور جین اور مہاراشٹر کانگریس اقلیتی شعبے کے ابراہیم بھائی جان شیخ این سی پی میں شامل
ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں آج دو الگ مگر سیاسی طور پر نہایت اہم پیش رفتیں سامنے آئیں، جن سے شیوسینا (اُدھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور کانگریس دونوں کو سخت جھٹکا لگا ہے۔ رائے گڑھ ضلع کے شیوسینا (یو بی ٹی) کے سینئر لیڈر کشور جین نے اپنے متعدد ساتھیوں کے ہمراہ این سی پی میں شمولیت اختیار کی، جبکہ مہاراشٹر کانگریس کے اقلیتی شعبے کے اہم لیڈر حاجی ابراہیم بھائی جان شیخ نے بھی این سی پی پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر پارٹی شامل ہو گئے۔
رائے گڑھ ضلع میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے ضلع معاون رابطہ صدر اور سابق ضلع پریشد رکن کشور جین، نائب تعلقہ صدر گنپت مہاترے، ناگوٹھنے کے صدر سنجے بھوسلے سمیت کئی عہدیداران اور کارکنان نے این سی پی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کے ساتھ ہی سابق سرپنچ ملند دھاترک، سابق سرپنچ سنتوش ناگوٹھنیکر، موہن ناگوٹھنیکر، گرام پنچایت رکن انل مہاڈک، کل سورے کے سابق سرپنچ بھالچندر شرکے، گرام پنچایت رکن اصغر ملا، سچن ٹھومبرے، ایڈووکیٹ پرکاش کامبلے، یونٹ صدر دھننجے جگتاپ، اسلم شیخ، سنجے کاکڑے سمیت بڑی تعداد میں مقامی کارکن شامل رہے۔ اس شمولیتی پروگرام کو رائے گڑھ کی سیاست میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ممبئی میں واقع مہیلا وکاس منڈل کے ہال میں منعقدہ ایک دیگر پروگرام کے دوران مہاراشٹر کانگریس کے اقلیتی شعبے کے لیڈر حاجی ابراہیم بھائی جان شیخ نے اپنے حامیوں کے ساتھ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ابراہیم بھائی جان شیخ ممبئی میں طویل عرصے سے سرگرم سیاسی و سماجی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اقلیتی مسائل پر ان کی مضبوط آواز رہی ہے۔ ان کی این سی پی میں شمولیت کو ممبئی کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان دونوں پروگراموں میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سنیل تٹکرے موجود رہے، جنہوں نے ریاستی صدر کی حیثیت سے تمام نئے شامل ہونے والے قائدین اور کارکنان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر ادیتی تٹکرے، سابق رکن اسمبلی انکیت تٹکرے، ریاستی نائب صدر مدھوکر پاٹل، معاون خزانچی سنجے بورگے، ریاستی جنرل سیکریٹری سنجے تٹکرے اور ریاستی ترجمان راجیو سابلے بھی موجود تھے۔ سنیل تٹکرے نے اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف پارٹیوں کے تجربہ کار اور عوامی رابطے رکھنے والے لیڈروں کی این سی پی میں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست میں پارٹی کی قیادت اور اس کی ترقیاتی سوچ پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ رائے گڑھ اور ممبئی دونوں علاقوں میں ان شمولیتوں سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی تنظیم مضبوط ہوگی اور آنے والے بلدیاتی و مقامی انتخابات میں پارٹی کو اس کا فائدہ ملے گا۔