ٹاپ فائیوکیسیز ٹرانسفرکرنے کا مطالبہ کیوں؟

مرکزی حکومت اس کی وضاحت کرے: نواب ملک

ممبئی:اب جبکہ یہ بات تقریباً ثابت ہوچکی ہے کہ این سی بی کی زونل یونٹ اپنی پرائیویٹ آرمی کے ذریعے مہاراشٹر میں جھوٹے مقدمات بناکر وصولی کررہی ہے، ریاستی نارکوٹکس سیل کے ٹاپ فائیوکیسیزاین سی بی کو ٹرانسفر کئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ یہ کیوں کیا جارہا ہے؟ مرکزی حکومت اس کی وضاحت کرے۔ یہ مطالبہ آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کیا ہے۔واضح رہے کہ ملک کے وزیرداخلہ امیت شاہ کے حکم کے مطابق ریاستی حکومت کے نارکوٹکس کنٹرول سیل کے ٹاپ فائیوکیسیز این سی بی کو سونپے جانے کا مکتوب مہاراشٹر کے ڈی جی کواین سی بی کے ڈی جی نے دیا ہے۔

نواب ملک نے سوال کیا ہے کہ اس بات کی بھی وضاحت کی جائے کہ ان ٹاپ فائیو کیسیز میں دو گرام، چارگرام، تین ٹن یاپھر زیادہ شہرت حاصل کرنے والے کیسیز ہیں۔ کیونکہ مکتوب میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اپنے اینٹی نارکوٹک سیل کے ذریعے منشیات کے روک تھام کے لئے کارروائیاں کرتی ہے۔ جتنے کام این سی بی نہیں کرسکتی ہے اس سے کہیں زیادہ کام ریاست کی منشیات مخالف دستہ کرتا ہے۔ نواب ملک نے مرکزی حکومت کانام لئے بغیر کہا کہ آپ کی یونٹ ہے تو کام کیجئے اور اگریہ یونٹ کام نہیں کرتا ہے تو اسے بند کردیجئے۔انہوں نے کہا کہ این سی بی کے ذریعے ریاستی منشیات مخالف دستہ کے ٹاپ فائیو کیسیز این سی بی کو ٹرانسفر کئے جانے کے مطالبے کے ذریعے ریاستی حکومت کے اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یا پھر ان ٹاپ فائیو کیسیز کے ذریعے مزید ہفتہ وصولی کا کاروبار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟نواب ملک نے این سی بی کانام لئے بغیر کہا کہ ہم اپنا کام کررہے ہیں اور آپ اپنا کام کیجئے۔ اگر آپ کا ادارہ واقعتا کام کررہا ہے تو ان 26جھوٹے مقدمات کی تفتیش کیجئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جھوٹے مقدمات جن بے قصور لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ہے انہیں کب رہا کیا جائے گا؟ اس کا جواب دینا چاہئے۔